منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

سلمان بٹ نے بڑے خواب آنکھوں میں سجالئے

datetime 8  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں سزا یافتہ قومی ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے کہا ہے کہ دوبارہ کرکٹ کھیلنے کاموقع ملنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کا شکرگزار ہوں،میں دعا کرتا ہوں کہ مجھے کسی فرنچائز کی نمائندگی کرنے کا موقع ملے،اگر میں پی ایس ایل میں میچز جتوانے میں کامیاب رہتا ہوں تو پھر میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کیوں نہیں کر سکتا۔ایک انٹر ویو میں سلمان بٹ نے حال ہی میں ختم ہونے والے قومی ٹی ٹونٹی کپ میں سلو اسکورنگ ریٹ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر غور کریں تو اس صورتحال میں میرے پاس آہستہ کھیلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ہم اپنی پوری مڈل آرڈر بیٹنگ لائن سے محروم ہو چکے تھے۔میرے اور طلعت کے بعد بیٹنگ لائن میں صرف بالرز بچے تھے۔ آپ ایسی صورتحال میں کیا کر سکتے تھے۔ مصباح الحق گزشتہ کچھ سالوں سے ایسا کر رہے ہیں اور ان پر ٹک ٹک کی چھاپ لگ چکی ہے۔سلمان بٹ نے ڈومیسٹک کرکٹ میں میں بلے بازوں کو درپیش مشکلات حالات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اوپنر کی حیثیت سے ہمیں کنڈیشنز دیکھ کر کھیلنا پڑتا ہے۔ جارحانہ شاٹس کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو جانا بہت آسان تھا لیکن میں ٹیم کیلئے وہاں کھڑا رہا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے لمبی اننگ کھیلنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔بائیں ہاتھ کے بلے باز نے سوال کیا کہ ناقدین اس وقت کہاں تھے جب انہوں نے راولپنڈی میں لاپور بلوز کیلئے کھیلتے ہوئے 152 کے اسٹرائیک ریٹ سے 84 رنز بنائے۔سلمان بٹ نے ڈومیسٹک سطح پر سلو اور غیر معیاری وکٹوں کو پاکستانی بلے بازوں کے سلو اسٹرائیک ریٹ کی وجہ قرار دیا۔ جدید دور کی کرکٹ میں وہی بلے باز کامیاب ہیں جو خود کو صورتحال کے مطابق ڈھال سکے۔آئی پی ایل میں اوسط اسکور تقریباً 170 رنز ہے۔ ہم نے پی ایس ایل میں انہی بلے بازوں کو سائن کیا لیکن وہ شارجہ اور دبئی میں تیار کی گئی وکٹوں کی وجہ سے کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ آپ نے دیکھا کہ کرس گیل بھی ناکام رہے کیونکہ جب وہ بیٹنگ کیلئے آتے تو مخالف ٹیم اسپنرز متعارف کرا دیتی تھی۔تاہم سابق کپتان نے قومی ٹیم میں دوبارہ جگہ بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں پی ایس ایل میں میچز جتوانے میں کامیاب رہتا ہوں تو پھر سوا ل یہ ہوگا کہ میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کیوں نہیں کر سکتا۔ آپ کو مجھ سے اچھی کارکردگی کی توقع رکھنی چاہیے اور مجھے امید ہے کہ میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہوں گا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…