جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

’’ایسا کریں کہ پاکستان پر انگلی اٹھانے سے پہلے زرا اپنے گریبان میں جھانک لیں ‘‘ بھارت میں سر عام ایسا کام ہونے لگا کہ بھارتی سورما پوری دنیا میں شرم سے پانی پانی

datetime 5  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لودھا کمیشن کی جانب سے اکانٹس منجمد کرنے کا واویلا مچانے والے بھارتی کرکٹ بورڈ نے اپنی ہی عدلیہ کو بلیک میل کرنے کی کوشش شروع کردیا۔صدر اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ اکانٹس منجمد کرنے سے ادارے کی ساکھ برباد ہوگئی، نیوزی لینڈ سے ہوم سیریز بھی غیریقینی کا شکار ہے، بغیر پیسوں کے ہم میچز کی میزبانی کیسے کرپائیں گے۔تفصیلات کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ جسٹس لودھا کی سربراہی میں قائم پینل کی سفارشات کے نفاذ میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے، سپریم کورٹ نے ابتدا میں اسے30 اکتوبر تک سفارشات کا پہلا مرحلہ نافذ کرنے کی مہلت دی تھی، یہ وقت گزاردینے کے بعد بی سی سی آئی نے عدالتی فیصلے کی حکم عدولی کردی،30 ستمبر کو ورکنگ کمیٹی اجلاس میں فل ممبران کو 2 رقوم کی منتقلی کا فیصلہ جاری کرنے کے فوری بعد ختم کردیا گیا ،مگر لودھا کمیشن نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے متعلقہ بینکوں کو خط لکھ کر ان دونوں ادائیگیوں سے روک دیا تھا، انوراگ ٹھاکر نے نیا پینترا بدلتے ہوئے اس صورتحال کو بورڈ کے اکانٹس منجمد کرنے سے تشبیہ دے کر نیوزی لینڈ سے سیریز کی منسوخی کا شوشہ چھوڑدیا۔میڈیا سے بات چیت میں انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ بغیر فنڈز کیلیے ہمارے لیے بورڈ کو چلاناکیسے ممکن ہوگا؟ ہم کس طرح پلیئرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ادائیگیاں کر پائیں گے؟ انھوں نے مزید کہا کہ ہم حکومت سے کوئی پیسہ نہیں لے رہے بلکہ یہ رقم تو خود بورڈ کی ہے، ہمیں مطلع کیے بغیر اکانٹس منجمد کردیے گئے، اس اقدام سے دنیا کے امیرترین کرکٹ بورڈ کی ساکھ تباہ ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ ہفتے کو ہونے والے بی سی سی آئی کے خصوصی اجلاس میں حکام نے لودھا کمیٹی کی چند سفارشات کو قبول کر لیا لیکن بیشترس اہم تجاویز کو مسترد کردیا تھا، لودھا کمیشن نے بورڈ میں بڑے آفیشلز کی عمر اور مدت ملازمت کی حد مقرر کرنے کے ساتھ انھیں لگاتار دو مرتبہ ایک ہی عہدے پر منتخب کرنے پر پابندی عائد کرنے کا کہا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…