جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارتی کرکٹ بورڈ پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔۔۔ آئی سی سی ایکشن میں آگئی ۔۔۔ بھارتیوں کیلئے اب تک کی سب سے بری خبر

datetime 29  ستمبر‬‮  2016 |

نئی دہلی ( آن لائن )عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر بی سی سی آئی کے صدر انوراگ ٹھاکر سمیت بورڈ کے اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر بی سی سی آئی کے صدر انوراگ ٹھاکر سمیت بورڈ کے اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ہندوستانی کرکٹ بورڈ(بی سی سی آئی) میں جاری قانونی چپقلش کے سبب بورڈ پر آئی سی سی کی جانب سے معطلی کا خطرہ منڈلانے لگا ہے اور اگر سپریم کورٹ لودھا کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرتا ہے تو آئی سی سی بی سی سی آئی پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔اگر ہندوستانی سپریم کورٹ لودھا کمیٹی کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے بی سی سی آئی کے تمام آفیشلز کو عہدوں سے ہٹاتے ہوئے ان کی جگہ منتظمین کا پینل تعینات کرتا ہے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ہندوستانی بورڈ پر پابندی لگانے میں حق بجانب ہو گا۔لودھا پینل کی سفارشات میں کہا گیا تھا کہ ‘بی سی سی آئی ہر قدم پر اصلاحات کے لیے رکاوٹ کھڑی کرتا تھا اور عدالت کی جانب سے جاری کئے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے’۔عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر بی سی سی آئی کے صدر انوراگ ٹھاکر سمیت بورڈ کے اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔آئی سی سی قوانین کے مطابق کسی بھی بیرونی حکومتی یا سیاسی مداخلت کی صورت میں آئی سی سی ایکشن لینے کا مجاز ہے۔بورآڈ اراکین کی آزادی کے متعلق آئی سی سی کے قوانین کی شق 2.9 کے مطابق بیروی مداخلت خصوصاً اگر حکومت کی جانب سے کی جائے تو پھر رکن کیخلاف ایکشن لیا جا سکتا ہے۔اس شق کے مطابق اراکین کے انتخاب کیلئے آزادانہ شفاف الیکشن کرائے جائیں یا/اور تقرریاں ان کی ایگزیکٹو باڈی کے اراکین یا ایگزیکٹو باڈی کی جانب سے تعینات کیے گئے اراکین کے باہر سے نامزد کیے جائیں۔کسی بھی قسم کی بہرونی مداخلت کی صورت میں آئی سی سی اس ملک کی رکنیت معطل یا ختم کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔ہندوستان کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکرنے جسٹس آر ایم لودھا کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کرتے ہوئے بی سی سی آئی میں اصلاحات کے لیے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔جسٹس ٹھاکر کا کہنا تھا کہ ‘ایسا لگتا ہے کہ بی سی سی آئی عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کو جاری رکھے گا، ہم بورڈ کی جانب سے اس طرح کے رویے کا شکار رہے ہیں اور ہم بی سی سی آئی کے ان حربوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…