جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

میں ایک پاکستانی ہوں ، پاکستان کو کہاں دیکھنا چاہتا ہوں، باکسر محمد عامر نے زبردست بات کہہ دی ، جان کر آپ داد دینے پر مجبور ہو جائینگے

datetime 26  اگست‬‮  2016 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کھیلوں کے لئے پر امن ملک ہے ، یہاں باکسنگ کا بہت ٹیلنٹ ہے بس اس کو نکھارنے کی ضرورت ہے اور میں پاکستان کو باکسنگ میں بلندیوں پر لے جانا چاہتا ہوں،پاکستان سے تعلق ہونے کی وجہ سے کرکٹ سے لگاؤ ضرور ہے میں فاسٹ باؤلنگ کرتا تھا لیکن پروفیشن اور جنون باکسنگ سے ہی وابستہ ہے،کوئی بھی ٹائٹل جیتنے سے زیادہ مشکل ٹائٹل کا دفاع کرنا ہوتا ہے ،پاکستان اور انگلینڈ سے قطع نظر پوری دنیا کے مسلمان مجھے سپورٹ کرتے ہیں ۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھیلوں کے لیے پر امن ملک ہے ، یہاں کے لوگ بہت اچھے دل کے مالک ہیں ، میرا تعلق راولپنڈی سے ہے تو ہم چھوٹی عمر سے گرمیوں کی چھٹیاں پاکستان میں گزارتے تھے اور اس وقت سے پاکستان آمد کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ میں مداحوں سے کبھی نہیں گھبرایا وہ ہمیشہ مجھے سیلفیوں کی فرمائش کرتے ہیں تو میں انکار نہیں کرتا ، باکسنگ کا آغاز آٹھ سال کی عمر میں کر دیا تھا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سے تعلق ہونے کی وجہ سے کرکٹ سے لگاؤ ضرور ہے میں فاسٹ باؤلنگ کرتا تھا لیکن پروفیشن اور جنون باکسنگ سے ہی وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ باکسنگ میں سخت ہوں لیکن زندگی میں ذمہ دار شہری ہوں ، پاکستان میں باکسنگ کا بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے صرف اس کو نکھارنے کی ضرورت ہے۔
اردو زبان کے متعلق عامر خان نے بتایا کہ میری بیوی مجھے اردو سیکھاتی ہے ، اردو اتنی زیادہ بولنی نہیں آتی لیکن کوشش ضرور کرتا ہوں۔اپنی ذاتی زندگی کے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ فریال سے نیویارک میں ڈنر پر ملاقات ہوئی اور میں نے ہی شادی کے لیے پرپوز کیا تھا ، فریال کو باکسنگ کے متعلق کچھ خاص نہیں پتہ ، جب میں نے اسے شادی کے لیے پرپوز کیا تو اس نے بات والدین پر ڈال تھی جس کے بعد میں نے اپنے والدین کو اس کے گھر بھیجا اور شادی انجام پائی۔بیوی بہت کہتی ہے کہ اب باکسنگ کو خیرآباد کہہ دو لیکن میرا ابھی بہت کیرئیر باقی ہے ، ابھی میں 29سال کا ہوں ، میرا خواب تھا کہ ورلڈ چمپئن بنوں جس کے لیے میں نے 35سالہ جرمنی کے ورلڈ چمپئن کو چیلنج کیا اور کامیاب رہا۔عامر خان نے بتایا کہ ایک فائٹ کے دوران میں پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہوگیا تھا ، اپنی اس شکست سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور وہ فائٹ مجھے ابھی تک یاد ہے جس کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔انہوں نے کہا کہ 17سال کی عمر سے اولمپکس میں شرکت کر کے کامیابیوں کا سلسلہ شروع کیا، جب باکسنگ شروع کی تو دن میں چار سے پانچ گھنٹے سخت ٹریننگ کرتا تھا ، پاکستان میں اسلام آباد کے جناح سٹیڈیم میں باکسنگ کی ہے ۔ کوئی بھی ٹائٹل جیتنے سے زیادہ مشکل ٹائٹل کا دفاع کرنا ہوتا ہے کیونکہ آپ ذہن میں سوار کر لیتے ہیں کہ اس فائٹ کو کسی صورت نہیں ہارنا ہے۔
پاکستان اور انگلینڈ سے قطع نظر پوری دنیا کے مسلمان مجھے سپورٹ کرتے ہیں کیونکہ میں مسلمان ہوں ۔سوشل ورک کے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ابھی حالیہ دنوں میں کراچی کا دورہ کر کے آیا ہوں جہاں میں نے دیکھا کہ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے جسے دیکھ کر بہت افسوس ہوا ، ایسے ہی لوگوں کی مدد کے لیے میں نے عامر خان ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا ہے ،جب بھی قدرتی آفات سے تباہی ہوئی ہم نے متاثرین کی مدد کی ۔خیرات اور امداد دینے کے متعلق انہوں نے بتایا کہ پاکستانی اس معاملے میں اپنی مثال آپ ہیں ، لوگ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں اور ہماری فاؤنڈیشن میں رقم اور عطیات جمع کراتے ہیں۔میرے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے لوگوں کی طرف سے عطیہ کی گئی ایک ایک پائی اسی مقصد کے لیے خرچ کی جاتی ہے جس کیلئے حاصل کی جاتی ہے۔عامر خان نے بتایا کہ میرا یقین ہے کہ آپ جتنا زیادہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے اللہ اتنا زیادہ آپ کو نوازے گا ، فیملی کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کرتا ہوں کیونکہ اب میں ایک والد بھی ہوں اور میری بہت پیاری بیٹی ہے ، میری اگلی فائٹ آئندہ سال جنوری یا فروری میں ہوگی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…