جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

نمبرون ٹیم بننے کے بعد اب کیا ہوگا؟ اسد شفیق نے خدشے کا اظہارکردیا

datetime 25  اگست‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے بلے باز اسد شفیق نے کہا ہے کہ دنیا کی نمبرون ٹیم بننے کے بعد کارکرگی میں تسلسل کیلئے دباؤ میں اضافہ ہوگا اور اگلا سیزن ہمارے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ایک انٹرویو میں اسد شفیق نے پاکستان کوعالمی نمبرایک ٹیم بننے کو پوری ٹیم کی بھرپور محنت اور مصباح الحق کی پرعزم قیادت کا صلہ قرار دے دیا۔انہوں نے کہاکہ یقینی طورعالمی نمبرایک ٹیم کا حصہ ہونا نہ صرف میرے کیریئر کا قابل فخر لمحہ تھا بلکہ گزشتہ تین سالوں کے دوران جب ہم ایک ٹیم کی حیثیت سے یکجا ہوئے اور مختلف حالات سے گزرے ہیں اس وقت ایک خواب تھا جو حقیقت ثابت ہوا۔اسد شفیق نے کہا کہ یہ کسی ایک کی انفرادی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ پوری ٹیم اس تاریخی کامیابی پر مبارک باد کی مستحق ہے۔ٹیسٹ کپتان مصباح کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب 2010 میں ٹیم اسپاٹ فکسنگ کے دلدل میں پھنسی ہوئی تھی تاہم مصباح کی کپتان کی حیثیت سے موجودگی سے پاکستان کرکٹ کیلئے قابل فخر لمحہ میسر آیا۔انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت عالمی نمبر ایک ہیں اس کی بنیادی محرک مصباح کی کھلاڑیوں پر خوداعتمادی کے ساتھ قیادت ہے۔اسد شفیق نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے آخری میچ میں سنچری کو اپنے کیریئر کی بہترین اننگز گردانتے ہوئے اس کا سارا کریڈٹ تجربہ کار بلے باز یونس خان کو دیدیا۔اوول ٹیسٹ پر بات کرتے ہوئے مڈل آرڈر بلے باز نے کہا کہ جس انداز میں آؤٹ ہورہا تھا اس پر میں بہت مایوس تھا لیکن آخری ٹیسٹ سے قبل یونس خان نے مجھے اور بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کو ویڈیو اینالسٹ طلحہ کے ساتھ 30 منٹ کے سیشن میں بلایا جہاں ہم نے مل کر سیریز میں میرے آؤٹ ہونے کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہاکہ ایجبسٹن ٹیسٹ میں جب دو مرتبہ اندر آتی گیند پرآؤٹ ہوا تو یونس خان نے اس کو نوٹ کیا تھا اور مجھے مسئلے سے نمٹنے کو کہا جو میرے لیے بہترین ثابت ہوا۔میں نے ایجبسٹن ٹیسٹ کی 109 رنز کی اننگز عظیم بلے باز حنیف محمد کے نام کردی تھی جو میچ کے دوسرے روز انتقال کرگئے تھے۔سد شفیق نے ہیڈ کوچ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مکی آرتھر نے ہیڈ کوچ کے طورپر اہداف مقرر کئے ہیں، وہ ایک مثبت سوچ رکھنے والا اور کھرا آدمی ہے اور ہمارا مجموعی خواب یہی ہے کہ ہم مستقل مزاجی کے ساتھ اچھی کارکردگی دکھاتے رہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…