اسلام آباد(نیوزڈیسک)کپتانی کی جنگ،محمدعامر کی واپسی،اندرونی اختلافات،ٹیم سلیکشن،مسلسل شکست کی اصل وجہ کیا ہے؟دومتنازعہ کھلاڑیوں کی واپسی کا طبل بج گیا،پاکستان کرکٹ ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی کی وجہ سے پاکستانی عوام تو حیران و پریشان ہیں ہی مگر دوسری جانب کرکٹ کے کرتا دھرتاﺅں کے بھی ہاتھ پاﺅں پھول گئے ہیں،بعض کرکٹ مبصرین کی رائے ہے کہ سپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث محمد عامر کی واپسی کے بعد دیگر کھلاڑیوں کا اظہار ناراضگی ہی پاکستان کرکٹ ٹیم کی تباہی کی اصل وجہ ہے جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ ٹیم میں کپتانی کی جنگ عرصے سے جاری ہے اور دو سینئر کھلاڑی اس میں پیش پیش ہیں ،اب ایشیا ءکپ کا آخری میچ سری لنکا کے ساتھ تو جیسے تیسے کھیلا ہی جائے گا مگر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ایک بارپھر پاکستان کرکٹ ٹیم جس قدر اجازت ملی تبدیلیاں کرکے بغیر کسی منصوبہ بندی کے ہی میدان میں اترے گی ،بعض کرکٹ مبصرین ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں محمد آصف اورسلمان بٹ کی واپسی کی بھی توقع کررہے ہیں۔دوسری جانب پاکستان ٹی 20 کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد خان آفریدی کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا ہے نہ تو وہ خود کوئی بہتر کارکردگی دکھا پارہے ہیں اور نہ ہی دوسرے۔آفریدی نے کہا ہے کہ بلے بازوں نے ان کی زندگی کی اجیرن کر رکھی ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے رپورٹر نے جب پاکستان کی کارکردگی سے متعلق شاہد خان آفریدی سے گفتگو کی تو ان کا کہنا تھا کہ ”بلے بازوں نے میری زندگی اجیرن کر رکھی ہے“۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ جب ابتدائی اوورز میں ہی 4 سے 5 بلے باز پویلین لوٹ آئیں گے تو کیا کارکردگی دکھائی جا سکتی ہے؟۔ذرائع کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وقاریونس اور کپتان شاہد آفریدی نے عمر اکمل کی ’معصومانہ خواہش‘پوری نہیں کی۔عمر اکمل نے کہاتھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اوپر والے نمبروں پر بیٹنگ کریں لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہیں کی گئی۔یاد رہے کہ عمر اکمل متحدہ عرب امارات کیخلاف میچ میں چوتھے نمبر پر کھیلنے کیلئے میدان میں اترے اور ٹیم کی جیت کیلئے کلیدی کردارادا کیا ، انہوں نے شاہد آفریدی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹیم میں اوپر والے نمبروں پر کھلایاجائے لیکن آج بنگلہ دیش کیخلاف میچ میں بھی کپتان اور کوچ کی جانب سے عمر اکمل کی معصومانہ خواہش پوری نہیں کی گئی ،وہ میدان میں پانچویں نمبر پر کھیلنے کیلئے آئے اور محض 4رنز ہی بنانے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان کے سابق عظیم بلے باز حنیف محمد نے پاکستان کرکٹ بورڈسے نیا بیٹنگ کوچ تعینات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیڈ کوچ وقار یونس کھلاڑیوں کو بیٹنگ نہیں سکھا سکتے ،کوچ کا تعلق پاکستان سے ہی ہونا چاہیے تاکہ وہ کھلاڑیوں سے صحیح معنوں میں کام لے سکے۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ ایشیا ئ کپ کے اب تک مقابلوں میں پاکستانی بلے بازوں نے ناقص بلے بازی کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ جب کبھی ہمارے بیٹسمین پہلے بیٹنگ کرتے ہیں تو ان کے لئے کریز پر بیس اوورز گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہد آفریدی کے اندر قائدانہ صلاحیتیں ہیں لیکن انہیں بروئے کا رلانے کی ضرورت ہے۔ یہ سب کافی نہیں تھا مگر اس کے بعد قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ سے بھی رہا نہ گیا اور انہوں نے بھی جو دل میں آیا سنا ڈالا قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ نے بلے بازوں کی پرفارمنس پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا ،بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے کہاکہ بلے بازوں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں۔ گرانٹ فلاور نے کہا کہ بلے بازوں کی پرفارمنس بہتر ہو سکتی ہے لیکن کھلاڑیوں کو گیم پر سخت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلے باز زیادہ ڈاٹ گیندیں کھیلنے سے دباوکا شکار ہو جاتے ہیں،بلے بازوں کو سمجھا یا جاتا ہے اور وہ سمجھ بھی جاتے ہیں لیکن پھر بھی پر فارم نہیں کر پاتے۔سب سے بڑی آواز تو پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کی اٹھی جنہوں نے اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف کی قومی ٹیم میں واپسی کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ دونوں کو سزا مکمل کرنے کے بعد دوسرا موقع دیا جانا چاہیے۔سلمان بٹ اور محمد آصف کو اس وقت کے ساتھی کھلاڑی محمد عامر کے ساتھ 2010ئ میں انگلینڈ کے خلاف لارڈ ٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر برطانیہ میں جیل کی سزا ہوئی تھی۔تاہم محمد عامر سزا پوری کرنے کے بعد شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی ٹیم میں واپس آچکے ہیں جبکہ آصف اور سلمان بٹ بدستور باہر ہیں اور انہیں رواں ماہ بھارت میں شروع ہونے والے ورلڈ ٹی ٹونٹی کے لیے پاکستانی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔انضمام الحق کا خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اپنے انٹرویو میں کہنا تھا کہ ایک شخص ایک دفعہ اپنی سزا پوری کرتا ہے تو وہ زندہ رہنے، کھیلنے اور سب کچھ کرنے کا حق رکھتا ہے۔میرا ماننا ہے کہ دوسرے کھلاڑیوں کو بھی واپسی کا موقع ملنا چاہیے۔انضمام الحق نے گزشہ سال افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور اس وقت وہ ورلڈ ٹی ٹونٹی کی تیاریوں کے سلسلے میں نئی دہلی میں ٹیم کے ساتھ مشغول ہیں۔پاکستان کے لیے 120ٹیسٹ اور 388ون ڈے میچز کھیلنے والے سابق مایہ ناز بلے باز نے ڈھاکا میں ایشیا کپ کے میچ میں ہندوستان کے خلاف محمد عامر کے بالنگ اسپیل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اٹل حقیقت ہے کہ اتنی صلاحیت کے ساتھ ہی کوئی شخص ایک طویل عرصے بعد اسی پرانے دم خم کے ساتھ با?لنگ کرسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح انہوں نے بھارت کے خلاف با?لنگ کی اس سے یہ نہیں لگتا تھا کہ وہ 5 سال بعد واپسی کررہا ہے۔ انضمام 8مارچ سے شروع ہونے والے ورلڈ ٹی ٹونٹی میں پاکستان کو کمزور ٹیم تصور نہیں کرتے۔انضمام کا کہنا تھا کہ پاکستانی بلے بازوں کی ایشیا ئ کپ میں ناقص کارکردگی کے باوجود پاکستان کے پاس ورلڈ ٹی ٹونٹیمیں کامیابی کا موقع موجود ہے۔ٹی ٹونٹی کرکٹ غیر متوقع طرز ہے اس لیے آپ کسی ٹیم کے بھی امکانات کو رد نہیں کرسکتے۔
مسلسل شکست کی اصل وجہ کیا ہے؟دومتنازعہ کھلاڑیوں کی واپسی کا طبل بج گیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
جولائی: ہونڈا سی ڈی 70 کی نئی قیمت سامنے آگئی
-
چین کا نظام
-
چھٹی ختم فیصلہ ہوگیا
-
پیٹرول کی قیمت میں مزید کمی کا امکان، وزارت خزانہ کی رپورٹ جاری
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑا اضافہ
-
چلتی بس کی کھڑکی سے باہر جھانکنے پر نوجوان کا سر دھڑ سے الگ ہو گیا
-
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ہالینڈ اور وینزویلا سے آئی خواتین کیساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی ، 4 ملزمان گ...
-
سولر پینلز، لیتھیم بیٹریوں ،انورٹرز کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کی کمی
-
آج سے تعلیمی اداروں پر بڑی پابندی عائد
-
ٹک ٹاک لائیو پر بوسہ لینے والے غیر شادی شدہ جوڑے کو سرعام کوڑے مارے گئے
-
کوچ گہری کھائی میں گرنے سے خواتین و بچوں سمیت 40 مسافر جاں بحق
-
3 دن سے لاپتہ 2 معصوم بھائیوں کی لاشیں گھر کی چھت پر موجود صندوق سے برآمد
-
خامنہ ای کی نمازِ جنازہ سے قبل ایران کا امریکا اور اسرائیل کو انتباہ
-
موبائل فون سستے ، نئی ڈیوٹی کا اطلاق شروع!



















































