کرکٹروں کو ادائیگی کر کے پاکستان کرکٹ بورڈ نے دوسری ٹیموں کو بھی راہ دکھا دی ہے اور وہ بھی اب پاکستان کا دورہ کرنے کے لیے مالی مطالبات کر سکتے ہیں۔شہر یار خان نے کہا کہ چھ سال کے طویل انتظار کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو رہی تھی لہذٰا پاکستان کرکٹ بورڈ کو کچھ نہ کچھ مالی قربانی دینی تھی لیکن اس کے بدلے پاکستان کو صرف گیٹ منی کی مد میں کروڑوں کی آمدنی ہوئی اور صرف کرکٹ ہی نہیں دیگر پہلوو ¿ں سے پاکستان کا امیج بحال ہوا۔اس لحاظ سے اگر زمبابوے کے کرکٹروں کو جو کچھ دیا گیا اس کا دوگنا بھی دیا جاتا تو وہ جائز تھاتاہم آئندہ کسی دوسری ٹیم کو اس طرح ادائیگی نہیں کی جائے گی۔شہر یار خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے کسی آفیشل کو کرکٹ کمنٹری کی اجازت نہیں دیتا اور چیف سلیکٹر ہارون رشید کو حالیہ ٹی 20 ٹورنامنٹ میں مجبوراً کمنٹری کرنی پڑی تھی تاہم یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی غلطی تھی آئندہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا کوئی بھی تنخواہ دار آفیشل براڈکاسٹنگ نہیں کر سکتا۔

























