منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

سرفراز کو کھلانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

datetime 2  مارچ‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)سابق کھلاڑیوں نے زمبابوے کیخلاف پاکستان کی جیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ فتح میں وہاب ریاض اور محمدعرفان کے علاوہ کسی کھلاڑی کا کوئی کردار نہیں تھا اور ساتھ ساتھ آئندہ میچ میں وکٹ کیپر سرفراز احمد کو کھلانے کا مطالبہ کردیا ہے۔سابق عظیم بلے باز جاویدمیانداد کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں جیت کے ٹریک پر آنا خوش آئند ہے مگر بیٹنگ اور فیلڈنگ نے ایک مرتبہ پھر مایوس کیا لہٰذا آئندہ میچوں میں اسپیشلسٹ وکٹ کیپر کے ساتھ میدان میں اترنا چاہئے۔واضح رہے کہ اب تک تینوں میچوں میں پاکستان کی فیلڈنگ خصوصاً وکٹ کیپنگ کے شعبے میں کارکردگی انتہائی ناقص رہی ہے اور عمر اکمل کئی کیچ ڈراپ کر چکے ہیں اور خراب کارکردگی کے باوجود ریگولر وکٹ کیپر سرفراز احمد کو ٹیم میں شامل نہیں کیا جا رہا۔سابق فاسٹ باو¿لر سرفراز نواز نے کہا کہ مصباح الحق نے کمزور بالنگ لائن کے سامنے غیر ضروری طور پر محتاطانداز اختیار کر کے ایک بار پھر اپنے آپ کو خود غرض کھلاڑی ثابت کردیا،محمدعرفان اور وہاب ریاض نے پاکستانی ٹیم کو جتوایا ورنہ حالات بہت خراب تھے۔انہوں نے عمر اکمل اور ناصر جمشید کی فیلڈنگ پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ناصر جمشید کی جگہ سرفراز احمد کو آزمانا چاہئے اور ان سے اوپننگ بھی کرائی جائے۔سابق اوپنر عامر سہیل نے بھی میانداد کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ زمبابوے کیخلاف فتح میں وہاب ریاض اور محمد عرفان کے علاوہ کسی کھلاڑی کا کوئی کردار نظر نہیں آیا،زمبابوے جیسی کمزور سائیڈ کے خلاف جس انداز میں بیٹنگ کی گئی،اس پر افسوس ہورہا ہے۔سابق لیگ اسپنر اور گگلی کے موجد عبدالقادر نے کہا ہے کہ وہاب ریاض نے خود کو ایک بار پھر لڑاکا اور محنتی کرکٹر ثابت کیا ہے،ٹیم کو ایسے کرکٹرز کی بہت ضرورت ہے جو میدان میں لڑتے نظر آئیں۔ ایسی فائٹ گزشتہ میچوں میں کی جاتی تو نتائج مختلف ہوتے۔سابق اوپنر شعیب محمد نے کہا کہ ناصر جمشید کی جگہ سرفراز احمد کو ٹیم میں شامل کیا جائے کیونکہ عمر اکمل کے کیچز ڈراپ کرنے سے ٹیم کو نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کا ورلڈ کپ اب شروع ہوا ہے مگر فیلڈنگ پر توجہ نہیں دی گئی تو واپسی کا راستہ تیارہوجائے گا۔راشد لطیف نے کہا کہ مصباح کے ساتھ عمراکمل،صہیب مقصود اور وہاب ریاض لڑتے ہوئے دکھائی دیئے مگر اوپننگ جوڑے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ایک اور سابق کرکٹر باسط علی نے کہا کہ کمزور ٹیم کیخلاف اس طرح کی کامیابی کسی طور پر قبول نہیں ہے۔محسن خان نے کہا کہ آئندہ میچوں میں ٹیم کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہے،ناصر جمشید کی جگہ سرفراز احمد کو شامل کیا جائے تو بہتر ہوگا۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…