جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

چاشت کا وقت تھا، لوگ ایک جنازہ کندھوں پر اٹھائے ہوئے آئے، ورثا نے آنحضرتۖسے درخواست کی کہ اس میت کا نمازجنازہ پڑھا دیں، حضور اقدس ۖ نے پوچھا کہ کیاتمہارے اس صاحب کے ذمہ کوئی قرض تو نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا۔۔۔

datetime 28  جنوری‬‮  2021 |

چاشت کا وقت تھا، لوگ ایک جنازہ کندھوں پر اٹھائے ہوئے آئے، ورثاء نے آنحضرتؐ سے درخواست کی کہ اس میت کا نمازجنازہ پڑھا دیں۔ حضور اقدسؐ نے پوچھا کہ کیاتمہارے اس صاحب کے ذمہ کوئی قرض تو نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا

صرف دو دینار قرض ہیں۔ حضوراکرمؐ نے خود جنازہ پڑھانے سے انکار کیا اور فرمایا: ’’تم خود ہی اپنے صاحب کا نماز جنازہ پڑھ لو۔‘‘ آنحضورؐ مقروض آدمی کا نماز جنازہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ حضرت علیؓ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ آدمی حضورؐ کی نمازکی برکت سے محروم نہ ہو جائے، جلدی سے خدمت اقدسؐ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہؐ وہ دو دینار میرے ذمہ ہیں، (میں ادا کروں گا) میت اس سے بری الذمہ ہے۔ چنانچہ نبی کریمؐ نے میت کا نمازجنازہ پڑھایا۔ پھر حضرت علیؓ سے فرمایا: ’’جزاک اللہ خیراً‘‘ اللہ تعالیٰ تجھے بھی رہن سے آزاد کرے جس طرح تم نے اپنے بھائی کو آزادی دلائی، ہر میت اپنے قرض کے سبب رہن رکھا ہوا ہوتا ہے اور جو شخص کسی میت کو اس سے چھڑائے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس کے دین سے آزادی دلائیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…