ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

بس میرا انصاف ہوگیا

datetime 30  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہندوستان میں شیرشاہ نام کا ایک ایسا بادشاہ گزرا ہے جس کے احسانوں کو ہندوستان کے لوگ رہتی دنیا تک نہ بھولیں گے۔ وہ بڑا بہادر، نہایت سمجھدار، انصاف پسند اور منتظم بادشاہ ہوا ہے۔ اُس نے رعایا کی بھلائی کے لیے بڑے بڑے کام کیے اور ایسے قوانین بنا گیا کہ آج تک یہاں کی حکومت اُن سے فائدہ اُٹھا رہی ہے۔ انصاف کرنے میں تو اس کا یہ حال تھا کہ اُس کے بیٹے بھی اُس سے کانپا کرتے تھے۔

ایک بارشیرشاہ سوری کا بیٹا عاقل خاں ہاتھی پر سوار جارہا تھا۔ راستے میں ایک بنیے کا گھر پڑتا تھا۔ بنیے کے گھر کی دیواریں نیچی تھیں۔ بنیے کی بیوی اُس وقت نہا رہی تھی۔ شہزادے نے اُسے دیکھا تو شرارت سوجھی۔ اُس نے پان کی گلوری عورت پر پھینکی اور ہنستا ہوا چلا گیا۔ گلوری عورت پر گری تو اُس نے اوپر دیکھا۔ ہاتھی پر شہزادے کو دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ شرم کے مارے اُس نے چاہا کہ چھُری سے اپنا خاتمہ کرلے۔ بنیے نے روکا اور کہا گھبرانے کی بات نہیں میں بادشاہ کے پاس جاتا ہوں بادشاہ بڑا خداترس اور رعایاپرور ہے۔ انصاف کے معاملے میں وہ کسی کی رعایت نہیں کرتا۔ میں بھی اپنی بے عزتی کا بدلہ شہزادے سے لیتا ہوں۔ بیوی کو سمجھا بجھا کر بنیے نے بادشاہ سے فریاد کی۔ شہزادے پر مقدمہ ہوگیا۔ عدالت کے سامنے بنیے نے ساری کہانی سُنائی۔ شیرشاہ نے شہزادے کی طرف دیکھا اور ڈانٹ کر کہا کمبخت تو خدا کے غضب سے نہیں ڈرتا۔ اس کے بعد حکم دیا کہ بنیا ہاتھی پر سوار ہو اور شہزادے کے محل کی طرف گزرے۔ شہزادے کی بیوی کو اس کے سامنے کیا جائے اور بنیا اُس پر پان کا بیڑا پھینکے۔ اب دربار میں ہل چل مچ گئی۔ بادشاہ کے امیروں، وزیروں نے بادشاہ کو بہت سمجھایا کہ یہ سزا مناسب نہیں۔ اگر شہزادے کو سزا دینی ہی ہے

تو دوسری سزا دی جائے۔ لیکن شیرشاہ اپنے فیصلے پر اڑ گیا۔ اُس نے کسی کی ایک نہ سنی۔ جواب دیا کہ میری نظر میں راجا اور پرجا سب برابر ہیں۔ فیصلہ اب بدلا نہیں جاسکتا۔ بادشاہ کا یہ فیصلہ سُن کر بنیے کا یہ حال ہوا کہ وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا۔ ’’مائی باپ! بس میرا انصاف ہوگیا۔ میں اپنے دعوے سے ہاتھ اُٹھاتا ہوں۔‘‘بنیے کی بات سُن کر بادشاہ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ حکم دیا کہ اُسے خوش کردو۔ پھر اشرفیوں کی تھیلیاں اُسے دیں۔ امیروں، وزیروں نے بھی اپنے پاس سے انعام دیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…