جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

بس میرا انصاف ہوگیا

datetime 30  جنوری‬‮  2019 |

ہندوستان میں شیرشاہ نام کا ایک ایسا بادشاہ گزرا ہے جس کے احسانوں کو ہندوستان کے لوگ رہتی دنیا تک نہ بھولیں گے۔ وہ بڑا بہادر، نہایت سمجھدار، انصاف پسند اور منتظم بادشاہ ہوا ہے۔ اُس نے رعایا کی بھلائی کے لیے بڑے بڑے کام کیے اور ایسے قوانین بنا گیا کہ آج تک یہاں کی حکومت اُن سے فائدہ اُٹھا رہی ہے۔ انصاف کرنے میں تو اس کا یہ حال تھا کہ اُس کے بیٹے بھی اُس سے کانپا کرتے تھے۔

ایک بارشیرشاہ سوری کا بیٹا عاقل خاں ہاتھی پر سوار جارہا تھا۔ راستے میں ایک بنیے کا گھر پڑتا تھا۔ بنیے کے گھر کی دیواریں نیچی تھیں۔ بنیے کی بیوی اُس وقت نہا رہی تھی۔ شہزادے نے اُسے دیکھا تو شرارت سوجھی۔ اُس نے پان کی گلوری عورت پر پھینکی اور ہنستا ہوا چلا گیا۔ گلوری عورت پر گری تو اُس نے اوپر دیکھا۔ ہاتھی پر شہزادے کو دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ شرم کے مارے اُس نے چاہا کہ چھُری سے اپنا خاتمہ کرلے۔ بنیے نے روکا اور کہا گھبرانے کی بات نہیں میں بادشاہ کے پاس جاتا ہوں بادشاہ بڑا خداترس اور رعایاپرور ہے۔ انصاف کے معاملے میں وہ کسی کی رعایت نہیں کرتا۔ میں بھی اپنی بے عزتی کا بدلہ شہزادے سے لیتا ہوں۔ بیوی کو سمجھا بجھا کر بنیے نے بادشاہ سے فریاد کی۔ شہزادے پر مقدمہ ہوگیا۔ عدالت کے سامنے بنیے نے ساری کہانی سُنائی۔ شیرشاہ نے شہزادے کی طرف دیکھا اور ڈانٹ کر کہا کمبخت تو خدا کے غضب سے نہیں ڈرتا۔ اس کے بعد حکم دیا کہ بنیا ہاتھی پر سوار ہو اور شہزادے کے محل کی طرف گزرے۔ شہزادے کی بیوی کو اس کے سامنے کیا جائے اور بنیا اُس پر پان کا بیڑا پھینکے۔ اب دربار میں ہل چل مچ گئی۔ بادشاہ کے امیروں، وزیروں نے بادشاہ کو بہت سمجھایا کہ یہ سزا مناسب نہیں۔ اگر شہزادے کو سزا دینی ہی ہے

تو دوسری سزا دی جائے۔ لیکن شیرشاہ اپنے فیصلے پر اڑ گیا۔ اُس نے کسی کی ایک نہ سنی۔ جواب دیا کہ میری نظر میں راجا اور پرجا سب برابر ہیں۔ فیصلہ اب بدلا نہیں جاسکتا۔ بادشاہ کا یہ فیصلہ سُن کر بنیے کا یہ حال ہوا کہ وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا۔ ’’مائی باپ! بس میرا انصاف ہوگیا۔ میں اپنے دعوے سے ہاتھ اُٹھاتا ہوں۔‘‘بنیے کی بات سُن کر بادشاہ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ حکم دیا کہ اُسے خوش کردو۔ پھر اشرفیوں کی تھیلیاں اُسے دیں۔ امیروں، وزیروں نے بھی اپنے پاس سے انعام دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…