منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

بغاوت

datetime 21  جولائی  2017 |

اس نے اپنے باپ کو قتل کر کے قبیلے کی سرداری حاصل کی تھی اور بیٹھتے ہی اعلان کر دیا تھا کہ جس کسی نے میرے خلاف بغاوت کی اس کو موت کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گالیکن اس کے ا س اعلان کے باوجود بھی باغی پیدا ہوگیا تھا اور وہ بھی کوئی اور نہیں اس کا اپنااکلوتا اور سگا بیٹا تھاجب اس کو گرفتار کرکے اس کے سامنے پیش کیا گیا تواس نے اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے کہا۔

شاید تم سوچ رہے ہو گے کہ تمہاری وجہ سے میں اپنے اعلان سے پھر جاؤں گا؟اگر ایساہے تو تم غلط سوچ رہے ہو،سردار اپنی زبان سے کبھی پھرا نہیں کرتے اس لئے تمہیں بھی وہی سزا ملے گی جو کہ کسی اور باغی کو ملنا تھی۔یعنی موت کی سزا،لیکن اس سزا سے پہلے دستور کے مطابق تم بھی اپنی آخری خواہش بیان کرسکتے ہو،کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘میں اپنی بات جلاد کے کان میں کہنا چاہتا ہوں اور میری آخری خواہش یہ ہے کہ جلاد میری بات میرے مارے جانے کے بعد آپ لوگوں کو بتائے۔ ٹھیک ہے تمہاری آخری خواہش کا احترام کرتے ہوئے جلاد تمہاری بات تمہارے مرنے کے بعد ہمیں بتائے گا۔یہ کہہ کر سردار نے جلاد کو اشارہ کیا تو وہ سردار کے بیٹےکے پاس چلا گیا اوراس نے جونہی اس کے کان میں اپنی بات کرنا شروع کی تو جلاد کا رنگ فق سا ہو تا چلا گیا۔اپنی بات ختم کر کے نوجوان نے بے خوفی سے اپنے سردارباپ کی طرف دیکھ کر مسکرانا شروع کر دیا۔ اقتدار اور طاقت کے رسیا سردار نے جلاد کو اشارہ کیا اور اس نے پلک جھپکنے میں تلوار کے ایک ہی وار سے اس کی گردن تن سے جدا کردیاور پھر سردار نے جلاد سے پوچھا۔ ہاں۔۔۔اب بتاؤ اس نے کیا کہا تھا تمہارے کان میں ؟

جلاد نے سردار کی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھا اور کہا سردار!آپ کے بیٹے نے کہا تھا کہ ،میرا خاندان اس قوم پر برسوں سے ظلم وستم کے پہاڑ توڑتا آرہا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ مستقبل میں بھی یہ قبیح سلسلہ جاری رہے۔اسی لئے میں نے جان بوجھ کر اپنے باپ کے خلاف بغاوت کی تھی تاکہ وہ مجھے موت کی سزا دے دے اور میں جو کہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہوں میرے مرنے کے بعد اس خاندان کی نسل ہی ختم ہو جائے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…