پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

محدود وسائل

datetime 31  مئی‬‮  2017 |

ایک دفعہ میں اور میرے کچھ کو لیگ مل کر جرمنی کادورہ کر رہے تھے، ہم ھیم برگ میں تھے، وہاں ایک ریسٹو رنٹ میں گئے۔ دیکھا تو زیادہ تر میز خالی پڑے تھے، لوگ بیٹھے تھے مگر کھانا نہیں پڑا تھا۔ ایک جوڑے کو دیکھا تو ان کی میز پر بھی ایک ایک ڈرنک پڑی تھی اور دو پلیٹوں میں تھوڑا سا کھانا تھا۔ میں نے دل میں سوچا کہ یہ کتنا کنجوس آدمی ہے، دیکھتے ہیں یہ حسینہ کتنا وقت اس کے ساتھ برباد کرتی ہے۔ آگے دیکھا تو ہماری ساتھ والی ٹیبل پر بہت سی بوڑھی عورتیں بیٹھی تھیں اور خوشگپیوں میں مصروف تھیں۔

ان کے ٹیبل پر بھی بہت قلیل مقدار میں کھانا پڑا تھا۔ خیر ہم سب بیٹھے اور ڈھیر ساری ڈشیں آرڈر کر دیں۔سب کو بھوک لگی تھی، ڈٹ کر کھایا، کھانا بہت شاندار تھا۔ لیکن پھر بھی دو تہائی کھانا بچ گیا۔ ہم نے بل ادا کیا اور ہوٹل سے اٹھنے لگے تو ان میں سے ایک بڑھیا نے غصے میں بولا کہ یہ کیا بد تمیزی ہے، انگریزی میں بول رہی تھی کہ آپ لوگوں نے اتنا کھانا ضائع کیوں کر دیا۔ میں نے غصے میں جواب دیا کہ آنٹی آپ کو کیا ہے، اپنے کام سے کام رکھیں، ہمارا پیسہ لگا ہے، ہماری مرضی ہم کتنا کھائیں۔ وہ اور بھڑک گئی اور موبائل اٹھا کر کسی کو کال ملائی۔ ایک آن میں ایک سوشل سیکیورٹی گارڈ یونیفارم میں نمودار ہوا ہماری ٹیبل دیکھی اور جیب سے ایک فائن نکال کر مجھے تھما دیا، میں نے دیکھا تو وہ ایک بل تھا کہ کھانا ضائع کرنے پر آپ کو پچاس یورو فائن کیا جاتا ہے،جر منی کی گورنمنٹ۔۔میں حیران ہو گیا، میرے کولیگز کے بھی منہ کھلے تھے ، اب ہمیں سمجھ آیا کہ ادھر کی پالیسی یہ تھی کہ کھانا اتنا ہی منگوائیں جتنا آپ ختم کر سکتے ہوں۔جب ہم ادھر سے نکلے تو گارڈ نے آکر بولا کہ جرمنی کی حکومت کا موٹو ہے کہ : پیسے آپ کے ہیں مگر نیچرل ریسورسز پوری سوسائیٹی کے ہیں اور آپ ان کو خرید کر ضائع کرنے کا حق نہیں رکھتے، باقیوں کی بھی فکر کریں۔ ہم شرمندگی سے ادھر سے چلے گئے اور پھر جب ہم نے آپس میں تبادلۂ خیال کیا تو ہم سب کو لگا کہ اگر ایک اتنے امیر کبیر ملک میں اپنے ذرائع اس طرح ضائع ہونے سے بچائے جاتے ہیں تو ہم پاکستانی تو ایک تھرڈ ورلڈ کنٹری ہیں، ہمارے پاس تو اتنے وسائل ہیں ہی نہیں اور پھر بھی ہم کتنے گھمنڈ سے اپنے ہوٹلوں، شادیوں اور قومی اسمبلیوں میں کھانا اس طرح ضائع کرتے ہیں جیسے باپ کا مال ہو۔ اللہ ہمیں بھی توفیق دے۔پیسے ضرور آپ کے ہیں مگر ان محدود وسائل پر پوری قوم کا حق ہے، اپنے پیسے سے ہمارے وسائل ضائع مت کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…