جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

اماں کواپنے گھر لے جائیں

datetime 30  مئی‬‮  2017 |

تینوں بیٹوں اور دونوں بیٹیوں کے چہرے پر ایک ہی سوال تھا۔اور وہ سب کے سب گزشتہ ایک گھنٹے سے ہسپتال کے برآمدے میں ٹہل ٹہل کر اس سوال کا جواب سوچ رہے تھے ۔میرا خیال ہے اظفربھائی سب سے بڑے ہیں۔ان کا فرض ہے کہ اماں کواپنے گھر لے جائیں صائمہ نے بڑی دیر کے بعد اٹکتے ہوئے کہا ۔اظفر نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو مسلسل تسبیع کے دانے رول رہی تھی اور اماں کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔

میں اپنے فرض سے انکار نہیں کرتالیکن تم سب جانتے ہو حرا سروس کرتی ہے اور اماں کیلئے اب فل ٹائم عورت کی ضرورت ہے میرا خیال ہے تم گھر رہتی ہو تم اماں کی دیکھ بھال اچھی طرح کر لو گی۔خرچہ کی فکر نہ کرنا وہ میں دوں گا ۔اظفر نے خرچے پر زور دے کر کہا میری تو بڑی خواہش ہے کہ اماں کی خدمت کروں مگر آپ تو جانتے ہوکہ میرے سسرال والے کس طرح کے ہیں اور میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی کے میرے بھائیوں کو کوئی برا کہے ۔پھر؟ کچھ لمحوں کیلئے پھر سکوت چھاگیا۔میرا خیال ہے ظفر بھائی کے پاس اماں زیادہ آرام سے رہ سکتی ہیں سائرہ نے ہکلاتے ہوئے منجھلے بھائی کی طرف دیکھا۔میرا بھی یہی خیال ہے ۔اظفر نے فوراََ چھوٹی بہن کی تائید کی ۔ظفر اور اسکی بیوی نے آنکھوں میں ایک دوسرے سے کچھ کہا اصل میں اماں کا کبھی بھی ہمارے گھر دل نہیں لگا وہ تو ہمارے گھر دو دن سے زیادہ رہتی ہی نہیں۔بیماری میں تو انسان تنہائی سے گھبراتا ہے۔شاہنہ نے شوہر کے کچھ کہنے سے قبل ہی صفائی پیش کر دی پھر اب کیاہوگا؟میری تو مجبوری ہے میری آمدنی بھی کم ہے،پھر میرے گھر میں تو بالکل جگہ نہیں اظہر نے کہا۔پھر،پھراماں کس کے گھر جائیں گی ؟سب مجبور تھے اور سوچوں میں غرق تھے۔آپ سب مریضہ کے رشتہ دار ہیں ان سب نے گھبرا کر سر اٹھایا جی!جی! آپ کو وارڈ میں ڈاکٹر بلا رہے ہیں خدا خیر کرے وہ سب تیزی سے وارڈ میں داخل ہوے ۔آئی ایم سوری شی ازایکسپائرڈ  ڈاکٹر نے اظفر کے کاندھے پر ۔ہاتھ رکھتے ہوے کہا ۔سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔سب کے چہروں پر ظاہری غم کے ساتھ ہی ایک کمینی سی مسرت کا عکس بھی تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…