جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

فقر و غنا کی کسوٹی

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

حضرت ابراہیم بن ادھمؒ سے کسی شخص نے کہا ’’میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھ سے یہ جبہ ہدیہ میں قبول فرمائیں۔ ابراہیم بن ادھم نے جواب دیا ’’اگر آپ غنی اور مالدار ہیں پھر تو میں قبول کر لیتا ہوں اور اگر آپ فقیر ہیں تو میں قبول کرنے سے معذرت کرتاہوں‘‘۔ اس شخص نے کہا، ’’جی میں غنی

ہوں‘‘ ابراہیم بن ادھمؒ نے کہا ’’آپ کے پاس کتنا مال ہے؟‘‘ اس نے کہا ’’دو ہزار‘‘ ابراہیم بن ادھمؒ نے کہا ’’اگر آپ کے پاس چار ہزار ہو جائیں تو آپ کو خوشی ہو گی؟ اس نے کہا ’’جی ہاں کیوں نہیں‘‘۔ ابراہیم بن ادھم نے کہا ’’معلوم ہوا کہ آپ فقیر ہیں لہٰذا میں آپ سے ہدیہ قبول نہیں کرتا۔

 



کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…