ہمارے ہاں ڈالر کی قیمت ذرا سی اوپر نیچے ہوجائے تو شور برپا ہوجاتا ہے لیکن افریقی ملک زمبابوے میں ڈالر کی قیمت قابو سے باہر ہونے کے بعد مقامی کرنسی اس قدر گری کہ اس کا کوئی شمار ہی ممکن نہ رہااور بلآخر حکومت کو مقامی کرنسی کے خاتمے کا اعلان کرنا پڑ گیا ۔ زمبابوے کے اقتصادی مسائل میں شدت آنے کے بعد ملک میں افراط زر میں اس قدر اضافہ ہوا کہ دن میں دو دو بار قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا
اور مقامی کرنسی کی قیمت اتنی کم ہوگئی کہ لوگوں کو نمک خریدنے کے لئے بھی نوٹوں کی بوریاں بھر کر لے جانا پڑتی تھیں۔اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیے کہ زمبابوے نے گنتی کے لحاظ سے دنیا کا سب سےبڑے نوٹ کا اجرا تک کردیا لیکن اس کی قیمت ہمارے سوروپےکے برابر بھی نہ تھی۔ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے حکومت نے مقامی کرنسی کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا اور عوام کے لئے اعلان کیا گیا کہ وہ اپنے پاس موجود مقامی کرنسی کو امریکی ڈالر کے ساتھ تبدیل کرواسکتے ہیں، البتہ اربوں کھربوں مقامی ڈالروں کے عوض ملنے والے امریکی ڈالروں کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوگی ۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اگر کوئی شخص 250 کھرب مقامی ڈالر لے کر بینک میں جائے گا تو اسے بدلے میں ایک امریکی ڈالر ملے گا۔ زمبابوے کی حکومت نے مقامی ڈالر کا آخری نوٹ 2008ءمیں جاری کیا تھا جس کی مالیت 100 کھرب تھی لیکن یہ دفتر جانے کے لئے بس کا کرایہ اداکرنے کے لئے بھی ناکافی تھا۔ بہرحال یہ نوٹ دنیا کا ایک ریکارڈ ضرور بنا گیا۔جو کہ گنتی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا کرنسی نوٹ تھا۔ شائد یہ ریکارڈ اب کبھی نہ ٹوٹ پائے۔تو آپ کے خیال میں کیا یہ ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے؟



















































