یحییٰ بن اکثمؒ کو ان کی وفات کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا۔ پوچھا حضرت آگے کیا بنا؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میری پیشی ہوئی۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یحییٰ تم میرے پاس کیا لائے ہو؟ میں نے کہا اے اللہ! میرے پاس اعمال کا ذخیرہ تو ہے نہیں۔ اللہ ایک حدیث مبارک میں نے سنی ہے۔
پوچھا کون سی حدیث؟ عرض کیا، اے اللہ! میں نے اپنے استاد معمر سے سنا، انہوں نے زہری سے سنا، انہوں نے عروہ سے سنا، انہوں نے سیدہ عائشہؓ سے سنا، انہوں نے نبی اکرمؐ سے سنا، انہوں نے جبرائیلؑ سے سنا اور جبرائیلؑ نے آپ سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ میرا وہ بندہ جو کلمہ گو ہو اور اس کے بال سفید ہو جائیں اور اس حال میں وہ میرے سامنے پیش کر دیا جائے تو اس کے سفید بالوں کو دیکھ کر مجھے حیا آتی ہے اور میں ایسے بندے کو عذاب نہیں دیا کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تم نے بھی ٹھیک سنا، معمر نے بھی ٹھیک سنا، زہری نے بھی ٹھیک کہا، عروہ نے بھی ٹھیک کہا، عائشہ صدیقہؓ نے بھی ٹھیک کہا، میرے محبوبؐ نے بھی ٹھیک کہا، جبرائیل نے بھی ٹھیک کہا اور ہم نے بھی سچ کہا، مجھے سفید بالوں والے مومن سے واقعی حیا آتی ہے۔ یحییٰ، تیرے سفید بالوں کو دیکھ کر میں نے جہنم کی آگ کو تیرے اوپر حرام کر دیا۔
امام مجاہد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا حال نقل کرتے ہیں کہ جب وہ نماز میں کھڑے ہوتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک لکڑی گڑی ہوئی ہے۔ یعنی بالکل حرکت نہیں ہوتی تھی۔ علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ابن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے نماز سیکھی، اور انہوں نے حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے یعنی جس طرح حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تھے اسی طرح ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پڑھتے تھے اور اسی طرح عبداللہ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ۔ ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نماز ایسی ہوتی تھی کہ گویا لکڑی ایک جگہ گاڑ دی۔ ماز میں خیال آ جانے سے باغ وقف کرنا



















































