دنیا کی محبوب ترین بلا لوچ نیس مونسٹر

  اتوار‬‮ 18 اکتوبر‬‮ 2015  |  18:18

لیکن یہ ایسی بلا نہیں ہے جس سے ملاح اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے خوف محسو س کریں بلکہ وہ اس کا ذکر نہایت احترام سے کرتے ہیں اور وہ اس سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے خیال میں یہ دنیا کی پرامن ترین اور شرمیلی بلا ہے جو پانی میں کسی کو نقصان پہنچائے بغیر رہتی ہے اور صرف کبھی کبھار ہی سطح آب پر آتی اور باہر کی دنیا کو اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ یہ بلا صرف انسانوں ہی سے نہیں بلکہ سمندری مخلوقات سے بھی الگ تھلگ رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔
جن لوگوں نے لوچ نیس مونسٹر کو دیکھا ہے‘ وہ بتاتے ہیں کہ اس کی شکل ایک قوی الجثہ سانپ کی سی ہے اور اس کی لمبائی پچاس فٹ سے بھی زیادہ ہے۔ اس کا جسم تیس فٹ سے زیادہ چوڑا ہے اور جب یہ پانی میں ظاہر ہوتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پانی میں سے کوئی چٹان اپنا سر ابھار رہی ہے۔ جبکہ اس کے جسم کی نسبت اس کے ہاتھ بہت چھوٹے چھوٹے اور نازک ہیں۔ اس کی گردن چار سے سات فٹ لمبی ہے اور ہاتھی کی سونڈ جیسی مضبوط معلوم ہوتی ہے۔ اس کے جسم پر چھوٹے چھوٹے پر بھی ہیں جن میں سے دو تو اس کے بازوؤں کے قریب واقع ہیں جبکہ ایک اس کے پشت پر ہے اور باقی دونوں سے نسبتاً بڑا ہے۔ لیکن یہ پر اسے اڑنے میں مدد دینے کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ اونٹ کے کوہان کی صورت میں ہیں۔ اس کو دیکھنے والوں نے اس کا سراپا کھینچنے میں اپنے تخیل سے بھی کام لیاہوگا اور اس کے حوالے سے کئی طرح کی مبالغہ آمیز بیانات بھی ملتے ہیں لیکن ان بیانات میں ایک بات پھر بھی مشترک ہے کہ اس کی جلد گھونگھے جیسی لہر دار ہے اور اس کی رنگت چاندی جیسی چمکتی ہوئی سیاہ ہے۔

BigNessieSmall
لوچ نیس مونسٹر کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں جن میں سے سب سے زیادہ اس کی عمر کے بارے میں ہیں۔ اسے ہزاروں سال پرانا بتایا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ایک سے زیادہ ہوں اور کبھی ایک ساتھ سطح آب پر نمودار نہیں ہوئے۔ کیونکہ عام طور پر یہ اکیلا ہی پانی کی سطح پر نظر آیا ہے جبکہ یہ پانی کی سطح پر اپنی معمولی سی جھلک دکھا کر اور یہ جاننے کے بعد کہ وہاں کوئی اور بھی موجود ہے‘ فوراً ہی پانی میں ڈبکی مارلیتا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تنہائی پسند ہے۔



زیرو پوائنٹ

پاکستان کا المیہ کیا ہے؟

میں نے ہرمینس (Hermanus) کا ذکر کیا تھا‘ یہ شہر کیپ ٹائون سے 115 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر کے کنارے آباد ہے‘ اسے ڈچ کسان ہرمینس پیٹرز نے 1805ء میں آباد کیا تھا‘آج بھی اس کی 80فیصد آبادی گوروں پر مشتمل ہے‘ ہرمینس وہیل مچھلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ اکتوبر میں روس میں سردیاں شروع ....مزید پڑھئے‎

میں نے ہرمینس (Hermanus) کا ذکر کیا تھا‘ یہ شہر کیپ ٹائون سے 115 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر کے کنارے آباد ہے‘ اسے ڈچ کسان ہرمینس پیٹرز نے 1805ء میں آباد کیا تھا‘آج بھی اس کی 80فیصد آبادی گوروں پر مشتمل ہے‘ ہرمینس وہیل مچھلیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ اکتوبر میں روس میں سردیاں شروع ....مزید پڑھئے‎