جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ایک ماہ 10دن بعد بوڑھے ماں باپ کو جواں سالہ بیٹا مل گیا

datetime 22  جون‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے جناح ہائوس حملہ کیس میں لڑکے کی بازیابی کی بنا پر کیس نمٹا دیا۔لاہور ہائیکورٹ میں جناح ہائوس توڑ پھوڑ حملہ کیس میں ملوث پی ٹی آئی کارکن کے کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس امجد رفیق نے بوڑھے والدین کی اپنے جواں سالہ بیٹے کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار روبینہ خوشنود نے اپنے بیٹے منیب کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی، ماں اور والد اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ گلفام مسلم رانا نے دلائل پیش کیے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ 9مئی کے واقعے کے بعد 16مئی کو میرے بیٹے کو بغیر کسی الزام کے اٹھا لیا گیا، میرے بیٹے کو رات ڈیڑھ بجے 28سے 30افراد اٹھا کر لے گئے، بیٹے کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے، میرا بیٹا آئی ٹی انجینئر ہے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت درخواست گزار کے بیٹے کو بازیاب کروانے کا حکم دے۔دوران سماعت ایک ماہ 10دن بعد بوڑھے ماں باپ کو ان کا جواں سالہ بیٹا مل گیا۔ پولیس نے بچے کوعدالتی حکم پر بازیاب کروا کر ہائیکورٹ میں پیش کیا۔عدالت نے ایس پی سکیورٹی کو ہر حال میں بچے کو بازیاب کروانے کا حکم دے رکھا تھا۔عدالت میں ایس پی سکیورٹی اور سی سی پی او لاہور پیش نہ ہوئے۔بازیاب ہونے والے لڑکے نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنے دوست کے گھر تھا، مجھ پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔عدالت نے لڑکے کی بازیابی کی بنا پر کیس نمٹا دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…