جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

اے این پی نے عمران خان اور فیض حمید کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی

datetime 27  اپریل‬‮  2023 |

پشاور(این این آئی) پختونخوا میں دہشتگردوں کی دوبارہ آبادکاری کی تحقیقات کیلئے اے این پی نے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کردیا ہے۔ اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ میں اے این پی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کی جانب سے پٹیشن دائر کردی گئی ہے۔

پٹیشن پشاور ہائی کورٹ میں بابر خان یوسفزئی ایڈوکیٹ اور خضرحیات خزانہ ایڈوکیٹ کی وساطت سیجمع کرائی گئی ہے۔ پٹیشن میں سابق وزیراعظم عمران نیازی، صدر پاکستان عارف علوی، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض، سابق وزیراعلی محمود خان،سابق صوبائی مشیر بیرسٹر سیف اور مرکزی و صوبائی حکومتوں کوفریق بنایاگیا ہے۔

جمع کرائی گئی پٹیشن میں درخواست کی گئی ہے کہ پختونخوامیں دہشتگردوں کی ری سیٹلمنٹ کے عمل کی تحقیقات کیلئے اعلی سطح کمیٹی بنائی جائے اور تمام ملوث کرداروں اور معاہدوں کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پختونخوا کو دہشتگردوں کے سپرد کرنے کا اقرار تمام فریقین مختلف فورمز پر کرچکے ہیں۔

کمیٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے مخصوص مدت دی جائے، تاکہ حقائق سامنے لائیں جاسکیں۔ درخواست میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی سربراہی میں پورے عمل کی جوڈیشل انکوائری کرانے اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے ری سیٹلمنٹ کے عمل کو فوری طور پر روکنیکی بھی درخواست کی گئی ہے۔ درخواست میں صوبائی صدر اے این پی ایمل ولی خان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف ٹھوس موقف کی وجہ سے اے این پی نے سینکڑوں کارکنان اور رہنماؤں کی قربانیاں دی ہیں۔

اے این پی، پختونخوا پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کی وجہ سے پختونخوا میں قیام امن ممکن ہوا تھا۔ 2013 انتخابات سے قبل حکیم اللہ محسود نے صرف پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی حکومت کو قبول کرنے کااعلان کیا تھا۔ دہشتگردوں کی جانب سے اس حمایت کے نتیجے میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو پختونخوا حکومت دی گئی۔ ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی گٹھ جوڑ 2018 انتخابات میں بھی برقرار رہا اور ایک دفعہ پھر صوبے میں پی ٹی آئی کو اکثریت دلوائی گئی۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اے این پی نے ہر دستیاب فورم پر ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی گٹھ جوڑکو بے نقاب کیا۔ یہ اے این پی ہی تھی جس نے پختونخوا میں دہشتگردوں کی دوبارہ آبادکاری کی سازش کا پردہ چاک کیا۔ پی ٹی آئی گورنر اور وزراء کی جانب سے سرکاری خزانے سے بھتے دینے کا انکشاف بھی اے این پی نے ہی کیا تھا۔ یہ معاملہ بھی آج تک زیرالتواء ہے اور اس بارے کوئی تحقیقات سامنے نہیں لائی گئیں۔

سابق وز?راعظم عمران نیازی اور صوبائی مشیربیرسٹر سیف کئی مرتبہ دہشتگردوں کو دوبارہ لانے کا اعتراف کرچکے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اے این پی نے دہشتگردوں کی دوبارہ آبادکاری اور انکو منظم کرنے کی پالیسی کی مسلسل مخالفت کی ہے۔ اس گھناؤنی سازش کے خلاف اعلی عدالتوں سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ عوام کو ایک دفعہ پھر دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔اعلی عدلیہ شفاف اور فوری تحقیقات کے ذریعے تمام حقائق عوام کے سامنے لائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…