جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس کی آرمی چیف سے ملاقات، صحافی کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 26  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صحافی اسد طور نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی۔

اپنے ایک وی لاگ میں اسد طور نے کہا کہ 14 اپریل کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال اپنی سرکاری گاڑی میں راولپنڈی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کیلئے گئے۔ اس ملاقات میں چیف جسٹس نے اپنے درد بیان کیے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد نے فوج کیلئے بہت خدمات سرانجام دی ہیں، بالخصوص انہوں نے ضیاء الحق کے دور میں بہت کام کیا۔ اسد طور کے مطابق چیف جسٹس کے والد سینئر بیورو کریٹ تھے اور ضیاء الحق کے سب سے لاڈلے افسر تھے۔

صحافی کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں پچھلے کئی سالوں کے دوران سپریم کورٹ نے جو اکاموڈیشن کی ہے اس کا بھی حوالہ دیا گیا، اب جو بحران کھڑا ہے اس پر بھی بات کی گئی ۔ 14 اپریل کو اس ملاقات کے بعد 17 اپریل کو ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم اور سیکریٹری دفاع نے ان چیمبر سماعت میں بریفنگ دی۔ اس بریفنگ کے بعد ججز نے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اس بریفنگ کی تعریفوں کے پل باندھ دیے اور قرار دیا کہ اس سے انہیں نئی چیزوں کا پتا چلا ہے۔

صحافی کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے بعد ایک شہری کو خیال آتا ہے کہ الیکشن ایک ہی دن ہونے چاہئیں، وہ اسی خیال کے تحت سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرتا ہے، ججز کے دل کو وہ پٹیشن اتنی خوبصورت لگتی ہے کہ وہ جن جماعتوں کو سننے کیلئے تیار نہیں تھے انہیں بلا کر مذاکرات کا کہہ رہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…