بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

ہوشربا مہنگائی، بازار ویران، دکاندار پریشان، عید کی خوشیاں ماند

datetime 20  اپریل‬‮  2023 |

لاہور (اے ایف پی) پاکستان میں ہوشربا مہنگائی،معاشی،سیاسی بحران،بازار ویران،دکاندار پریشان،عید کی خوشیاں ماند پڑی ہوئی ہیں،عام طور پر عید میں اتنا کما لیتے تھے جتنا پورا سال نہیں کما پاتے، لیکن اس بار بازاروں میں رونق ہی نہیں،رمضان کے اختتام پر آنے والی چھٹیاں پاکستان کی چھوٹی دکانوں اور ٹھیلہ فروشوں کے لیے کمائی کی ضمانت ہوا کرتی تھیں۔

اس آخری ہفتے میں اتنی کمائی ہو سکتی ہے، جتنی پورے سال میں نہیں ہوتی لیکن اس سال صورت حال مختلف ہے۔ بہت سے دکانداروں کو یہ خدشہ ہے کہ وہ اپنی دکانوں کا ماہانہ کرایہ تک ادا نہیں کر پائیں گے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ عام طور پر عید میں اتنا کما لیتے تھے جتنا پورا سال نہیں کما پاتے۔ ملک میں مہنگائی کئی دہائیوں کی اپنی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے اور سیاسی انتشار نے ملک کو غیر یقینی کی کیفیت میں ڈال رکھا ہے۔ شہزاد احمد مشرقی شہر لاہور میں بیگز، زیورات اور دیگر سامان فروخت کرنے کی دکان چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ʼʼکوئی گاہک نہیں ہے، کوئی خریدار نہیں ہے۔‘‘ دو سو بیس ملین سے زیادہ آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک میں مارچ کے دوران افراط زر کی شرح 35.4 فیصد تھی۔ گزشتہ بارہ مہینوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 47 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا جبکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 55 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔ پاکستان بال بال قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور اسے ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 6.5 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی اگلی قسط کی ضرورت ہے جبکہ اس عالمی ادارے نے سخت اصلاحات متعارف کروانے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

دوسری جانب برسوں کی مالی بدانتظامی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنگین معاشی مشکلات نے ملک کے بازاروں اور منڈیوں میں مایوسی پھیلا رکھی ہے۔ ایک دوسرے تاجر سیف علی کا کہنا تھا، گزشتہ سال کے مقابلے میں خریدار کافی کم ہیں اور اس کی وجہ مہنگائی ہے۔‘‘ ’’شیخ امیر‘‘ چوڑیوں اور جیولری کی دکان چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عام طور پر وہ عید کے سیزن میں اتنا کما لیتے تھے، جتنا پورا سال نہیں کما پاتے تھے۔ تاہم اس سیزن کے بارے میں ان کا کہنا ہے، ان دنوں یہ بہت مشکل ہو گیا ہے۔ مندی ہے اور اب ہم صرف یہ امید کر رہے ہیں کہ اپنی دکانوں کا کرایہ ادا کرنے کے قابل ہو جائیں۔‘‘ ملک بھر میں عید سے پہلے خریداری میں اضافہ دیکھا جاتا ہے اور بازار خریداروں سے بھر جاتے ہیں۔ شہری علاقوں میں تو مارکیٹیں اور بازار آدھی رات کے بعد بھی کھلے رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…