اسلام آباد (این این آئی)تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کی قیادت کے ذریعے حکومت سے رابطہ کرتے ہوئے حکومت سے براہ راست مذاکراتی عمل کے آغاز کیلئے 4 پیشگی شرائط پیش کردیں جس کے مطابق عمران خان کے خلاف قائم تمام مقدمات کے خاتمہ کی شرط سرفہرست ہے جبکہ حکومت نے پی ٹی آئی کی پیشگی شرائط کو
عمران خان کیلئے این آر او کے حصول کی کوشش قرار دیتے ہوئے مذاکرات سے قبل پی ٹی آئی کا کوئی بھی مطالبہ ماننے سے انکار کردیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ، تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کی قیادت کے ذریعے براہ راست مذاکراتی عمل کے آغاز کیلئے حکومت کو پیشگی شرائط بھجوا دیں۔ ذرائع کے مطابق براہ راست مذاکرات کیلئے تحریک انصاف نے 4 بنیادی شرائط پیش کی ہیں۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے تحریک انصاف کی شرائط سے حکومت کو آگاہ کیا۔جماعت اسلامی کی قیادت حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذکرات کی بحالی کے لئے کوشاں ہے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے پہلی شرط یہ رکھی ہے کہ عمران خان کے خلاف قائم تمام مقدمات کو ختم کیا جائے۔دوسری شرط میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے تمام اراکین قومی اسمبلی کے استعفے نامنظور کیے جائیں۔ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ دوبارہ تحریک انصاف کو دیا جائے،چوتھی شرط یہ رکھی گئی کہ تحریک انصاف کے تمام گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں۔ذرائع کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی کی پیشگی شرائط کو عمران خان کیلئے این آر او کے حصول کی کوشش قرار دیتے ہوئے مذاکرات سے قبل کوئی بھی مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے جماعت اسلامی کی قیادت کے ذریعے پی ٹی آئی کو جواب بھجوایا کہ پیشگی شرائط قبول نہیں، جو بھی بات ہوگی مذاکرات کی میز پر ہوگی،پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ اور مخلص ہے تو غیرمشروط طور پر مذکرات کی میز پر آئے۔