جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

اس وقت ملک میں جوڈیشل مارشل لا ہے، سعید غنی نے حیران کن دعویٰ کر دیا

datetime 17  اپریل‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)سندھ کے وزیر برائے محنت و افرادی قوت سعید غنی نے کہاہے کہ اس وقت ملک میں جوڈیشل مارشل لا ہے، الیکشن شیڈول کا اختیار سپریم کورٹ کا نہیں، الیکشن کمیشن کا ہے، کوئی اور آئین کی خلاف ورزی کرے تو ایکشن اگر چیف جسٹس کرے تو کچھ نہیں۔پیرکویہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ماضی میں فوج مارشل لا لگاتی تھی اس وقت جوڈیشل مارشل لا ہے،

پیپلزپارٹی مستقل جوڈیشل ایکٹوازم کا شکار ہوتی رہی ہے، سپریم کورٹ میں کچھ اچھے ججز ہیں جو آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں، دوسری جانب وہ ججز ہیں جو عمران خان کے عشق میں مبتلا ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہر موقع پر سپریم کورٹ کے تمام ججز کے بیٹھنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا، کیا اسباب ہیں قابل ججز کو ملک کے مسائل کے حل کے بینچز شامل نہیں کیا جاتا؟۔سعید غنی نے کہا کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کا ماتحت نہیں، سپریم کورٹ روزانہ الیکشن کمیشن کے معاملات میں مداخلت کرتا ہے، الیکشن شیڈول کا اختیار سپریم کورٹ کا نہیں الیکشن کمیشن کا ہے، چیف جسٹس جو کررہے ہیں اس کا آئین میں کہیں ذکر نہیں، چیف جسٹس اختیارات کو غلط استعمال کررہے ہیں، قانون بننے سے پہلے اس پر عملدآمد روک دیا گیا۔صوبائی وزیر نے کہاکہ ماضی میں فوج مارشل لا لگاتی تھی اس وقت جوڈیشل مارشل لا ہے، موجودہ سپریم کورٹ کے مخصوص ججز میں تقسیم ہے، کچھ ججز آئین پر بات کرتے ہیں جن پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، کچھ ججز عمران خان کے عشق میں مبتلا ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک خود مختار ادارہ ہے اور فنانس ڈویژن کے احکامات ماننے کا پابند نہیں، پارلیمنٹ ان تمام اداروں کی ماں ہے، پارلیمنٹ آئین بناتی ہے پھر ادارے قائم ہوتے ہیں، سپریم کورٹ کے پاس اختیار نہیں کے آئین میں ایک چیز بھی تبدیل کردے۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کا مطلب ہے کہ اس میں 17 ججز ہیں اور ایک جج چیف جسٹس ہے، اگر چیف جسٹس کو لگتا ہے کہ نئے عدالتی اصلاحات بل سے ان کے اختیارات کم ہورہے ہیں تو وہ اس میں متاثرہ فریق ہیں، وہ خود اس کیس کی سماعت کیسے کرسکتے ہیں؟، اصولی طور پر چیف جسٹس کو کہنا چاہئے کہ یہ قانون میرے خلاف ہے، لہذا سینئر جج اس کیس کو سنیں گے۔

سعید غنی نے کہا کہ وہ جج جو آئین پاکستان توڑنے کا مرتکب ہوا ہو اس کے خلاف ریفرنس دائر ہونا چاہئے، کوئی اور آئین کی خلاف ورزی کرے تو ایکشن اگر چیف جسٹس کرے تو کچھ نہیں ہوتا، ججز کو فیصلے قانون کے تحت کرنے چاہئیں، ازخود نوٹس واٹس میسیجز پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

صوبائی وزیر نے کہاکہ جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف ریفرنس کا چیف جسٹس خود اعتراف کرچکے، چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کے خلاف اگر کوئی شکایت آئے گی تو میرا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے چیف جسٹس سے مستعفی ہونے اور پارلیمنٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔



کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…