جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

اس وقت ملک میں جوڈیشل مارشل لا ہے، سعید غنی نے حیران کن دعویٰ کر دیا

datetime 17  اپریل‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)سندھ کے وزیر برائے محنت و افرادی قوت سعید غنی نے کہاہے کہ اس وقت ملک میں جوڈیشل مارشل لا ہے، الیکشن شیڈول کا اختیار سپریم کورٹ کا نہیں، الیکشن کمیشن کا ہے، کوئی اور آئین کی خلاف ورزی کرے تو ایکشن اگر چیف جسٹس کرے تو کچھ نہیں۔پیرکویہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ماضی میں فوج مارشل لا لگاتی تھی اس وقت جوڈیشل مارشل لا ہے،

پیپلزپارٹی مستقل جوڈیشل ایکٹوازم کا شکار ہوتی رہی ہے، سپریم کورٹ میں کچھ اچھے ججز ہیں جو آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں، دوسری جانب وہ ججز ہیں جو عمران خان کے عشق میں مبتلا ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہر موقع پر سپریم کورٹ کے تمام ججز کے بیٹھنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا، کیا اسباب ہیں قابل ججز کو ملک کے مسائل کے حل کے بینچز شامل نہیں کیا جاتا؟۔سعید غنی نے کہا کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کا ماتحت نہیں، سپریم کورٹ روزانہ الیکشن کمیشن کے معاملات میں مداخلت کرتا ہے، الیکشن شیڈول کا اختیار سپریم کورٹ کا نہیں الیکشن کمیشن کا ہے، چیف جسٹس جو کررہے ہیں اس کا آئین میں کہیں ذکر نہیں، چیف جسٹس اختیارات کو غلط استعمال کررہے ہیں، قانون بننے سے پہلے اس پر عملدآمد روک دیا گیا۔صوبائی وزیر نے کہاکہ ماضی میں فوج مارشل لا لگاتی تھی اس وقت جوڈیشل مارشل لا ہے، موجودہ سپریم کورٹ کے مخصوص ججز میں تقسیم ہے، کچھ ججز آئین پر بات کرتے ہیں جن پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، کچھ ججز عمران خان کے عشق میں مبتلا ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک خود مختار ادارہ ہے اور فنانس ڈویژن کے احکامات ماننے کا پابند نہیں، پارلیمنٹ ان تمام اداروں کی ماں ہے، پارلیمنٹ آئین بناتی ہے پھر ادارے قائم ہوتے ہیں، سپریم کورٹ کے پاس اختیار نہیں کے آئین میں ایک چیز بھی تبدیل کردے۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کا مطلب ہے کہ اس میں 17 ججز ہیں اور ایک جج چیف جسٹس ہے، اگر چیف جسٹس کو لگتا ہے کہ نئے عدالتی اصلاحات بل سے ان کے اختیارات کم ہورہے ہیں تو وہ اس میں متاثرہ فریق ہیں، وہ خود اس کیس کی سماعت کیسے کرسکتے ہیں؟، اصولی طور پر چیف جسٹس کو کہنا چاہئے کہ یہ قانون میرے خلاف ہے، لہذا سینئر جج اس کیس کو سنیں گے۔

سعید غنی نے کہا کہ وہ جج جو آئین پاکستان توڑنے کا مرتکب ہوا ہو اس کے خلاف ریفرنس دائر ہونا چاہئے، کوئی اور آئین کی خلاف ورزی کرے تو ایکشن اگر چیف جسٹس کرے تو کچھ نہیں ہوتا، ججز کو فیصلے قانون کے تحت کرنے چاہئیں، ازخود نوٹس واٹس میسیجز پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

صوبائی وزیر نے کہاکہ جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف ریفرنس کا چیف جسٹس خود اعتراف کرچکے، چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کے خلاف اگر کوئی شکایت آئے گی تو میرا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے چیف جسٹس سے مستعفی ہونے اور پارلیمنٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…