ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

لاہور ہائیکورٹ کا 1947 سے 2001 تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

datetime 17  اپریل‬‮  2023 |

لاہو ر( این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے حکومت کو 1947ء سے 2001ء تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے توشہ خانہ تحائف سے متعلق 1990ء سے 2001ء تک کا ریکارڈ پبلک کرنے کے فیصلے کے خلاف

حکومتی اپیل پر سماعت کی۔دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل نصر احمد کا کہنا تھا کہ 1947ء سے 1990ء تک توشہ خانہ کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے جبکہ عدالت نے کہا کہ پہلے حکم پر عمل کیا جائے اس حکم پر مکمل طور پر قائم ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ اس عرصے کا ریکارڈ نہیں رکھا، یہ تو ریاست کا اثاثہ ہیں، ریکارڈ نہ ہونے کا سن کر دکھ ہوا ہے، یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ ریکارڈ نہیں ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے کہا کہ راتوں رات بل منظور ہو جاتے ہیں اور جس کے لیے بل پاس ہونے چاہئیں وہ ہوتے ہی نہیں، آنے والی نسل کے لیے کیا چھوڑا، پہلی نسل نے پاکستان بنایا لیکن دوسری نسل نے کچھ نہیں کیا، بچوں کو کیا دینا ہے۔عدالت نے کہا کہ یہ پوری قوم کا معاملہ ہے 1947ء سے 2001ء تک کا توشہ خانہ کا تمام ریکارڈ لے کر آئیں ورنہ اس وقت سے اب تک تمام افسروں کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا، چاہے وہ افسر ریٹائرڈ ہی ہو چکے ہوں۔لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کا تمام ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے حکومتی اپیل پر سماعت مئی کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔خیال رہے کہ 22مارچ کو لاہور ہائی کورٹ نے ایک شہری کی درخواست پر حکومت کو 1990ء سے 2001ء تک توشہ خانہ کا ریکارڈ 7 روز میں پبلک کرنے کا حکم دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…