ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

عدالت نے سارے فیصلے کرنے ہیں تو پھر پارلیمان اور کابینہ کی کیا ضرورت؟ مصدق ملک

datetime 17  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر مملکت برائے پیٹرولیم سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ عدالت نے سارے فیصلے کرنے ہیں تو پھر پارلیمان اور کابینہ کی کیا ضرورت ہے؟ اب کابینہ اور پارلیمان کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرمملکت برائے پیٹرولیم نے کہاکہ (آج) سپریم کورٹ کیا فیصلہ کرے گی میں نہیں جانتا؟

ابھی تک جو فیصلے کئے ہیں ان سے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ نے تمام ذمہ داری خود لی ہے ۔انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں اب کسی ادارے کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے،قانون بننے میں10دن لگتے ہیں، ایک قانو ن ہے جو ابھی نہیں بنا، اس کو بننے سے پہلے ختم کیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ سپریم کورٹ نے ڈائریکٹ اداروں کو حکم دیا ہے، اسٹیٹ بینک کس آئین و قانون کے تحت پیسے دے گا یہ کسی نے نہیں بتایا؟۔وفاقی وزیر مملکت برائے پیٹرولیم سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ مذاکرات کے حوالے سے سراج الحق کی کوششیں خوش آئند ہیں۔سابق گورنر سندھ اور پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا عدالت نے 14 مئی کی تاریخ دی ہے الیکشن 14 مئی کو ہی ہوں گے، عدالت نے آئین کے تحت تاریخ دی ہے۔انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ رانا ثناء اللہ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ دینے والے کہ 14مئی کو الیکشن نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ سارے ملک میں الیکشن ایک ساتھ ہونے پر بات چیت ہو سکتی ہے، کریک ڈاون بند کریں گے تو بات ہو سکتی ہے، حکومت کو سپریم کورٹ پر اعتماد ہے نہ ججز اور بینچ پر، ہر جج کا نام لے کر گالم گلوچ کر رہے ہیں۔عمران اسماعیل نے کہاکہ خان صاحب!کے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ یہ عید پر کچھ کریں گے، کسی کی خواہش پر الیکشن ملتوی نہیں ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…