ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ملازمین کی تنخواہوں میں 30سے 35فیصد تک بڑھائیں جائیں ، وفاقی وزیر نے تجویز پیش کر دی

datetime 16  اپریل‬‮  2023 |

سکھر (این این آئی)پیپلز پارٹی کے رہنما و وفاقی وزیر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ کوئی شک نہیں ملک میں مہنگائی ہے اور اس کا حل نکالا جائیگا، عوام کو مہنگائی سے بچانا ہماری ذمے داری ہے، بھلے ترقیاتی فنڈز روکے جائیں مگر تنخواہیں بڑھانا بہت ضروری ہو چکا ہے۔

ڈسٹرکٹ کونسل ہال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تجویز دوں گا کہ ملازمین کی 30 سے 35 فیصد تنخواہیں بڑھائی جائیں، مزدور کی کم از کم تنخواہ 30 سے 35 ہزار کی جائے۔انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت کو خطرہ ہے، جمہوری طاقتوں کو سوچنا چاہیے کہ ملک اور عوام کو بچانا ہے، اگر ہم نے پارلیمنٹ کو طاقتور نہیں بنایا تو عوام طاقت ور نہیں ہوسکتے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آج اداروں کا آپس میں ٹکراؤ ہے جس سے پاکستان کمزور ہو رہا ہے، سیاستدانوں کا فرض ہے کہ عوام کے پیٹ بھرنے کے لیے راستے ڈھونڈے جائیں۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبے بھر میں تعلیم کے حوالے سے بہتر اقدامات کیے ہیں، سکھر میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں تھی آج 5 بن چکی ہیں اور چھٹی بننے جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ زون کے لیے 400 ایکڑ زمین الاٹ کی ہے، جس سے 20 ہزار لوگوں کو روزگار ملے گا، لوگ چاہتے ہیں کہ ایسا روزگار ملے جس میں کام نہ کرنا پڑے، اب ایسا نہیں ہو گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم بھی کام کرتے ہیں تو عوام ہمیں دوبارہ منتخب کرتے ہیں، سیاستداں کا کام گالم گلوچ نہیں بلکہ عوامی خدمت کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ لیور ٹرانسپلانٹ کے لیے بھارت جانا پڑتا تھا اب سندھ میں مفت علاج ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…