ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پارک میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان تلخ کلامی، ہاتھا پائی، ایک جج نے قریب پڑا ڈنڈا بھی اٹھا لیا، معروف اینکر کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 14  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پارک میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان تلخ کلامی، ہاتھا پائی، ایک جج نے قریب پڑا ڈنڈا بھی اٹھا لیا، اس کا دعویٰ معروف اینکر پرسن نسیم زہرا نے ایک ویڈیو بیان میں کیا ہے۔نسیم زہرا کا کہنا تھا کہ خبروں میں آپ نے سنا،

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے چیمبر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی موجو د تھے اور وہاں انہوں نے اپنی شکایات کیں، اس دوران نا خوشگوار ماحول رہا۔ اینکر نسیم زہرا نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد رات3 بجے جوڈیشل کالونی میں واقعہ پارک میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس منصور علی شاہ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الا حسن موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بتا یا جا رہاہے کہ وہاں بہت زیادہ تلخ کلامی ہوئی اور بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی، اس دوران قریب ہی رکھی ایک لکڑ ی کی چھڑی کا بھی استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی کافی غصہ آیا، پھر درمیان میں کچھ لوگ آئے اور فریقین کو ہاتھا پائی سے روک دیا۔ اس موقع پر اینکر پرسن نسیم زہراکا کہنا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے ججز کی بات کر رہے ہیں، اس سے بد تر کچھ نہیں ہو سکتا، اگر چیمبر اور پارک میں ایسا ہوا تو اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ بینچز پر کیا ہو گا۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے ججوں کے درمیان جھگڑے کی خبروں کی تردید کردی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…