ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا کپاس کے کاشتکاروں کیلئے بڑا فیصلہ

datetime 13  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کپاس کی رواں سال قیمت 8500 روپے فی من (40 کلو) مقرر کرنے کی اصولی منظوری دے دی-وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کپاس کی سپورٹ پرائس جلد از جلد اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظور کروانے کیلئے پیش کی جائے-انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں کسانوں کو کپاس کی مقرر کردہ قیمت کی فراہمی یقینی بنائیں-

وفاقی حکومت مقرر کردہ سپورٹ پرائس پر عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومتوں کی ہرممکن مدد کرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے-انہوں نے کہا کہ کپاس کی فصل کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لئے تجاویز مرتب کرنے میں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی تیز رفتاری سے اپنا کام مکمل کرے-شہباز شریف نے کہا کہ کپاس پاکستان کی زرمبادلہ کمانے والی فصل ہے- وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی ٹاسک فورس کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں کپاس کی پیداوار بڑھانے اور کپاس کی سپورٹ پرائس مقرر کرنے پر تفصیلی گفتگو ہوئی- اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ برس سیلاب، بارشوں، نہری پانی کی قلت اور کھاد کے بحران کی وجہ سے کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ کمی واقعہ ہوئی- رواں سال کپاس کی مجموعی پیداوار کا تخمینہ 12.77 ملین بیلز لگایا گیا ہے، جبکہ کپاس کی سپورٹ پرائس اور حکومت کے اقدامات کی بدولت نہ صرف کپاس کی کاشت کے رقبے بلکہ فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے. اجلاس کو کپاس کی فی ایکڑ لاگت اور اس کا دوسری فصلوں کے ساتھ موازنہ بھی پیش کیا گیا-وزیرِ اعظم نے کہا کہ کپاس ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے. ہم کپاس کے کاشتکاروں کو سہولیات فراہم کرکے اسکی پیداوار میں اضافہ کریں گے. اس سے نہ صرف ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ کپاس کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زرِ مبادلہ بچایا جا سکے گا.-وزیرِ اعظم نے فوری طور پر ان اقدامات پر عملدرآمد کی ہدایات کیں- اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، سید نوید قمر، طارق بشیر چیمہ، نگران وزیر اعلی پنجاب سید محسن رضا نقوی، مشیرِ وزیرِ اعظم احد چیمہ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…