جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

مشکل وقت اور ڈیفالٹ کاخطرہ ختم، ملک ترقی کرے گا، آرمی چیف کی کاروباری شخصیات کو یقین دہانی

datetime 8  مارچ‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد/راولپنڈی(این این آئی)آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بزنس کمیونٹی سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔گزشتہ شب آرمی چیف اور وزیر خزانہ نے ملک کی ٹاپ کارروباری شخصیات سے ملاقات کی۔اس دوران وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)پروگرام پر بریفنگ دی اور آرمی چیف کو اعتماد دلایا۔اسحاق ڈار نے مستقبل کی

معاشی توقعات سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے، ملاقات میں زیادہ تر معاشی معاملات پر گفتگو ہوئی تاہم چند سیاسی امور بھی زیر بحث آئے۔ذرائع کے مطابق جنرل عاصم منیر نے کاروباری شخصیات کو پیغام دیا کہ مسائل ضرور ہیں مگر پاکستان میں سب برا نہیں ہے، مل کر ملک کو ان مسائل سے نکالیں گے اور اس کیلئے آخر تک لڑیں گے۔اس موقع پر وزیر خزانہ نے تاجر برادری کو یقین دلایا کہ آئی ایم ایف سے جلد اسٹاف لیول معاہدہ ہوجائے گا،جون میں ہم یہ پروگرام مکمل کریں گے اور پھر آئندہ کی معاشی حکمت عملی کے حوالے سے اپنے آپشنز دیکھیں گے۔ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف کا رویہ ماضی میں کبھی اتنا سخت نہیں رہا، جتنا اب ہے، اس وقت پروگرام کے ذریعے پاکستان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ سخت سے سخت شرائط منوائی جاسکیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ چین کو یہ بات سمجھ آگئی تھی اس لیے بیجنگ سے پاکستان کو فوری طور پر ڈپازٹس مل گئے مگر آئی ایم ایف کے اسٹاف لیول معاہدے کے ساتھ دیگر دوست ممالک، بین الاقوامی اداروں سے بھی پیسے مل جائیں گے اور صورتحال بہتر ہوجائے گی۔

ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے بھی بزنس کمیونٹی کو اعتماد دلایا کہ دوست ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری آئے گی، ملک کے مستقبل کیلئے زراعت میں جوائنٹ وینچرز کے ذریعے ریفارمز ہوں گی اور ملک کی فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ حل کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اس موقع پر آرمی چیف نے واضح کیا کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے، سیاسی قیادت اپنے مسائل خود حل کرے۔ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان نے مجھ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی اور پیغام بھجوایا مگر میرا جواب یہی تھا کہ بطور آرمی چیف میرا کیا کام ہے کہ میں سیاستدانوں سے ملاقات کروں؟

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…