منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکی نے باپ کے قاتل کو 14 سال بعد گرفتار کروا دیا

datetime 27  فروری‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی) بہادر بیٹی نے بڑا کارنامہ انجام دے دیا، والد 2008میں کراچی میں قتل ہوئے،14سال بعد دبئی میں بیٹی نے سوشل میڈیا پر قاتل کو پہچان لیا، شواہد جمع کیے اور دبئی پولیس کو اطلاع دے کر قاتل کو گرفتار کروا دیا۔سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے والد کے قاتل تک پہنچنے والی

ماہم امجد اب ملزم تقی شاہ کو پاکستانی حکام کے حوالے کروانے کی کوششوں میں ہیں تاکہ ملزمان پر مقدمہ چلے سزا ہو۔ماہم نے بتایاکہ والد نے دفتر میں اربوں روہے کی کرپشن پکڑی تھی، جس پر ملزم تقی شاہ نے انہیں قتل کیا تھا۔اب ماہم ملزم کو پاکستانی حکام کے حوالے کروانا چاہتی ہیں، تاکہ ملزم پر پاکستان میں مقدمہ چلے۔ماہم نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے بھی سوشل میڈیا پر رابطہ کیا، جس کا وزیر خارجہ نے فوری ایکشن بھی لیا۔بہادر لڑکی ماہم کو دھمکیاں بھی ملیں، بہت پریشرائز بھی کیا گیا، مگر وہ کہتی ہے کہ اب وہ کسی سے نہیں ڈرتی، چاہے جان ہی کیوں نا چلی جائے، والد کے قاتل کو ان کے منتقی انجام تک پہنچا کر رہے گی۔ماہم نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرادری سے بھی اظہار تشکر کیا ہے جنہوں نے ملزم تقی شاہ کی پاکستان حوالگی کیلئے فوری ایکشن لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…