ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ رشید کو کراچی، حب میں درج مقدمات میں بڑا ریلیف مل گیا

datetime 6  فروری‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے عوامی مسلم لیگ (اے ایم ایل) کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کے خلاف کراچی اور حب میں درج مقدمات پر کارروائی سے روک دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے شیخ رشید کی جانب سے کراچی اور مری کے مقدمات میں حوالگی روکنے کی دائر درخواست پر سماعت کی۔

شیخ رشید کی جانب سے وکلا انتظار حسین پنجوتہ اور نعیم حیدر پنجوتہ عدالت میں پیش ہوئے۔شیخ رشید کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عدالت نے تھانہ آبپارہ کے طلبی کے سمن کے ضمن میں مزید کارروائی سے روکا تھا، پولیس نے اسی درخواست پر مقدمے کا اندراج کیا اور گرفتاری کی، ایک اور ایف آئی آر کراچی میں درج کی گئی جب شیخ رشید پولیس کی حراست میں تھے۔جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دئیے کہ بیان دینے کی جگہ پولی کلینک ہسپتال ہے تو کراچی میں مقدمہ کیسے درج ہوگیا؟ اس دوران عدالت نے بار کونسلز ، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی نوٹسز جاری کردئیے۔عدالت نے استفسار کیا کہ ایک ہی وقوعہ پر مختلف شہروں میں ایف آئی آر کیسے ہوسکتی ہیں ؟ شیخ رشید کے خلاف تیسرا مقدمہ مری میں درج کیا گیا، کیا ان تینوں مقدمات میں گرفتاری ہوچکی ہے ؟شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ صرف ایک مقدمے میں گرفتاری ہوئی ہے ، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ قانون تو یہ کہتا ہے جب ایک مقدمے میں گرفتاری ہو تو باقی میں بھی ہوجاتی ہے۔

وکیل شیخ رشید نے کہا کہ شیخ رشید کو نامعلوم جگہ پر کرسی سے باندھ کر چھ گھنٹے تک رکھا گیا، اس دوران سیاسی سوالات کئے گئے اور تشدد بھی کیا گیا۔جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ مجھے نہیں سمجھ آرہی کہ یہ سلسلہ رکے گا کہاں؟، عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ نے سیکرٹری انفارمیشن اور ایم ڈی پی ٹی وی کیخلاف دہشتگردی کے مقدمات درج کردئیے تھے۔جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ اب وہی کچھ آپ کیخلاف ہورہا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ زرا سوچیں اگر خاتون سیکرٹری انفارمیشن کو بڈھ بیر پولیس گرفتار کرکے لے جاتی تو کیا ہوتا ؟

اس دوران عدالت نے شیخ رشید کے خلاف کراچی کے موچکو اور لسبیلہ تھانوں میں درج مقدمات پر کارروائی سے روکتے ہوئے عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک کے لئے ملتوی کردی۔خیال رہے کہ شیخ رشید نے کراچی اور مری کے مقدمات میں حوالگی روکنے کی درخواست اپنے وکیل سردار عبد الرازق خان کے توسط سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…