جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

اعتماد کا ووٹ مانگا تو گھبراہٹ ہو رہی ہے، شہباز شریف کو بچانے کیلئے یہ حرکت کی گئی، شاہ محمود قریشی

datetime 17  جنوری‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور( این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں 35اراکین کے استعفوں کی منظوری کے فیصلے نے ثابت کر دیا ہے جمہوریت کے لبادے میں کوئی اور کام ہو رہا ہے، امپورٹڈ ٹولہ اپنے اقتدار کو دوام دینے کیلئے ہر چیز کو دائو پر لگانے کو تیار ہیں، ہمارا ایک نکاتی ایجنڈا ہے

ملک میں الیکشن کرائے جائیں، اعتماد کا ووٹ مانگا تو گھبراہٹ ہو رہی ہے، ہم سے انہوں نے اعتماد کا ووٹ مانگا ہم نے اعتماد کا ووٹ لے کر دکھایا،موجودہ اپوزیشن لیڈر تو ان کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی ہے، رن آف کے نمبرز کو کم کرنے کیلئے 35 ممبران کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا، ان کو اپنے بہت سارے ممبران پر اعتماد نہیں رہا، شہباز شریف کو بچانے کیلئے یہ حرکت کی گئی ہے، سب کو ڈی نوٹیفائی کر کے الیکشن کرا دیں قوم الیکشن میں فیصلہ کر لے گی۔تحریک انصاف کے 35اراکین کو ڈی نوٹیفائی کرنے پر اپنے رد عمل اور زمان پارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استعفے قبول کرنے ہیں تو سارے کریں سلیکشن کیوں؟، قوم دیکھ رہی ہے یہ لوگوں کی نظروں میں گرتے جا رہے ہیں، کب تک بھاگو گے؟ حکومت کے فیصلے پر تبادلہ خیال کے بعد آگے بڑھیں گے، الیکشن کمیشن لوگوں کی نظروں میں اور کتنا گرے گا، سپیکر صاحب اپنے کہے سے پھر گئے یہ مذاق اور ناٹک ہے، ان کو گھبراہٹ اس لیے ہے یہ لوگ عوام کا سامنا نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ سپیکر صاحب آپ نے استعفے قبول کرنے ہیں تو 125 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کریں، سپیکر کے دہرے معیار کی وجہ سے ہم نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی، اس حکومت کو معیشت اور غریب آدمی کا کوئی احساس نہیں، یہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے سب کچھ کرنے کو تیار ہے، آج ملک کی صنعتیں بند اور ہر طرف افراتفری ہے۔

سلیکٹو 35 حلقوں کو چن کر ڈی نوٹیفائی کرنا دہرا معیار ہے، سب جانتے ہیں کن مقاصد کیلئے یہ فیصلے کیے جا رہے ہیں، اب ان کے ہاتھ پائوں پھول گئے ہیں، ہاتھ پائوں پھولنے کے بعد ممبران اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا، بہت سے پی ڈی ایم ممبران اسمبلی تحریک انصاف میں شمولیت کی خواہش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے حکومت کی کانپیں ٹانگتی دیکھیں،

پنجاب میں جو ہوا ان کے وہم و گمان میں نہ تھا،قوم کو دلدل سے نکالنے کے لئے ہم نے بڑی قربانی دی،ہم پاکٹ یونین اپوزیشن لیڈر کو بے نقاب کرنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا گیا عدالتی فیصلے کی بنیاد پر استعفے قبول نہیں ہوسکتے،سپیکر نے کہا وہ ہر ممبر کو الگ الگ سنیں گے پھر استعفے قبول کریں گے ،منتخب کرکے لوگوں کو ڈی نوٹیفائی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم حقیقی اپوزیشن لیڈر لے کر آنا چاہتے تھے،ملک دیوالیہ ہوچکا ہم صرف نئے انتخابات چاہتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…