جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

آئندہ 48 گھنٹے پنجاب کی سیاست کے لئے انتہائی اہم قرار چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گئے

datetime 19  دسمبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور( این این آئی)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے اسمبلیوں کی تحلیل اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے مسلسل دوسرے روز بھی لاہور میں سیاسی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا، وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی رہنمائوں کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں پنجاب اسمبلی کی تحلیل کو روکنے اور آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا گیا ۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے چوبیس گھنٹوں میں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ان کی رہائشگاہ پر جا کر دوسری ملاقات کی ۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) پنجاب اسمبلی کی تحلیل روکنے کیلئے سیاسی طور پر متحرک ہو گئی ہے ۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ماڈل ٹائون میں پارٹی رہنمائوں کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں موجودہ پنجاب کی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا ۔اجلاس میں خواجہ سعد رفیق، ایاز صادق، سلمان رفیق، عطا اللہ تارڑ ،ملک احمد خان سمیت دیگر شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے پارٹی رہنمائوں کو مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایک سب کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اسمبلی کی تحلیل نہ رکنے کے امکانات سامنے آنے کی صورت میں یہ فیصلہ کرے گی کہ پہلے گورنر کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہا جائے یا وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے حالیہ انٹر ویو کی بھی باز گشت سنائی دی اور اس کا مختلف پہلوئوں سے جائزہ لیاگیا ۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے حکم دیا ہے کہ تمام اراکین پنجاب اسمبلی کو لاہور طلب کیا جائے اور انہیں آئندہ ہفتے تک لاہور میں ہی قیام کرنے کی ہدایت کی جائے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی چوبیس گھنٹوں میں وزیر اعظم شہباز شریف کی مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے دوسری ملاقات ہوئی ہے جس میں انہیں آصف علی زرداری سے ہونے والی ملاقات اور پارٹی رہنمائوں سے ہونے والی مشاورت سے آگاہ کیا گیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ(ن) نے حتمی فیصلہ کیا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی سے براہ راست کوئی بات نہیں کی جائے گی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی سے بات چیت کا دروازہ کھل سکتا ہے تاہم مونس الٰہی کسی صورت (ن) لیگ کی طرف بڑھنے میں راضی نہیں ہیں ۔ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت حسین نے وزیر اعظم شہباز شریف کو چوبیس گھنٹوں میں اپنی طرف سے کی گئی سر گرمیوں کے حوالے سے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا ہے ۔

سیاسی تجزیہ کار آئندہ اڑتالیس گھنٹوں کو پنجاب کی سیاست کے لئے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں اور ساری صورتحال میں چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے مونس الٰہی ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…