جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

مصلحت کی خاطر عمران خان کے خلاف فی الحال کارروائی کی ضرورت نہیں مولانا فضل الرحمن نے بڑا بیان دیدیا

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ کے پیچھے غیر ملکی فنڈنگ ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ کے پیچھے چھپی سازش سے پردہ چاک کرنا ملکی مفاد کا تقاضا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے اپنے طور پر انویسٹی گیٹ کیا ہے کہ لانگ مارچ کو ایک ملک فنڈنگ کر رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ سعودی فرمان روا

شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کو سبوتاژ کرنے کے لئے لانگ مارچ کا ڈرامہ رچایا گیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ جب تک شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کی تاریخ نہیں طے ہوئی تھی تب تک عمران لانگ مارچ کی تاریخ کا بھی اعلان نہیں کر رہے تھے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کو جیسے ہی پتہ چلا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ نومبر میں ہوگا تو اس نے نومبر میں مارچ شروع کیا۔انہوںنے کہاکہ جب شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان 21 نومبر کو طے ہوا تو عمران نے 21 نومبر کو اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کردیا۔انہوں نے کہاکہ شہزادہ محمد بن سلمان نے دھرنے کے اعلان کے بعد دورہ پاکستان ملتوی کیا۔انہوں نے کہاکہ ایک ملک نہیں چاہتا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کریں۔ اس لئے لانگ مارچ کو فنڈنگ کر رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے دو تین ممالک کے لئے بڑی سرمایہ کاری لیکر آرہے تھے۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ عمران نے 2014 میں بھی چینی صدر کے دورہ کو سبوتاڑ کرنے کے لئے دھرنا دیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان نے ہر وہ قدم اٹھایا ہے جو ریاست پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ عمران خان کا لانگ مارچ اب فرلانگ مارچ بن چکا ہے۔انہوںنے کہاکہ عمران خان نے آرمی چیف کی تقرری کو بھی متنازعہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ جیسے امریکا کا مستقبل نہیں رہا ایسے ہی اب عمران خان کا بھی کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ مصلحت کی خاطر عمران خان کے خلاف فی الحال کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ امریکی سازشی بیانیے اور سائفر سے پیچھے ہٹنا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…