بدھ‬‮ ، 14 اکتوبر‬‮ 2026 

پولیس تشدد سے جاں بحق نوجوان کے ورثا کو 32 سال بعد انصاف مل گیا

datetime 20  اکتوبر‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائی کورٹ میں ماورائے عدالت قتل کیس 32 سال بعد منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ 1990 میں پولیس کے تشدد سے جاں بحق ہونے والے نوجوان کے

ورثا کو انصاف مل گیا۔مقتول شکیل کے 90 سالہ والد نے 2 کروڑ 8 لاکھ روپے کا چیک وصول کرلیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے سی آئی اے سینٹر میں پولیس تشدد سے ہلاکت پر ہرجانہ منظور کیا تھا۔عدالتی حکم پر سندھ حکومت کے اکانٹ سے 2 کروڑ 8 لاکھ سے زائد رقم ادا کی گئی۔

عدالت نے مقتول کے اہل خانہ کو رقم ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔پولیس نے جنرل اسٹور چلانے والے نوجوان کو کھوڑی گارڈن سے حراست میں لیا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عینی شاہد کے مطابق مقتول شکیل کو 24 اپریل 1990 کو گرفتار کیا گیا تھا، مقتول کو چھت سے لٹکا کر

بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ایس ایس پی سی آئی اے سینٹر سمیع اللہ مروت و دیگر نے بیٹے پر تشدد کیا تھا۔

واقعے کی جوڈیشل انکوائری میں پولیس اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ 24 سالہ شکیل کی پولیس حراست میں ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری کرائی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…