منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

رواں سال کے پہلے 6 ماہ صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کو کیا تحائف ملے؟توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری

datetime 16  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آبا د(این این آئی)کابینہ ڈویژن نے یکم جنوری 2025 سے لے کر 30 جون 2025 تک کا توشہ خانہ ریکارڈ جاری کر دیا ہے،کیلنڈر سال 2025 کی پہلی ششماہی مدت میں وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری کو قیمتی تحائف ملے، چیف آف آرمی اسٹاف، ایئر چیف اور چیف آف نیول اسٹاف کو بھی تحائف ملے۔نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو تحائف ملے، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ بھی تحائف وصول کرنے والوں کی فہرست کا حصہ ہیں۔

چیف آف جنرل اسٹاف سید عامر رضا، وائس ایڈمرل راجا رب نواز کو بھی تحائف ملے، چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد، وزیر تجارت، سیکریٹری تجارت نے بھی تحائف وصول کیے۔ملک احمد خان، محمد علی رندھاوا، رفعت مختار راجا، وہاب ریاض کو تحائف ملے، تحائف وصول کرنے والوں میں زین عاصم اور عثمان باجوہ بھی شامل ہیں۔طارق فاطمی اور خواجہ عمران نذیر سمیت دیگر شخصیات فہرست کا حصہ ہیں، پاکستانی حکام اور شخصیات کو بیشتر تحائف غیر ملکی اعلیٰ حکومتی شخصیات اور دیگر نے دیے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک شیلڈ کا تحفہ دیا، چیئرمین فیڈرل بورڈ ا?ف ریونیو (ایف بی آر) راشد لنگڑیال نے بھی وزیر اعظم شہبازشریف کو ایک شیلڈ کا تحفہ دیا تھا۔

سال 2025 کے پہلے 6 ماہ میں تحائف میں ڈیکوریشن پیسز، گھڑیاں، الیکٹرک گاڑیاں ملیں، اسی مدت میں ریڈی میڈ کارپٹ اور بیڈ شیٹ کے تحائف بھی وصول کیے گئے، تحائف میں جائینماز، ٹیبل کلاتھ،کافی سیٹ، ٹی سیٹ اور ٹائی سمیت دیگر اشیا شامل ہیں۔اس مدت میں میں وصول کنندگان نے تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے، کابینہ ڈویژن وصول شدہ تحائف کا تخمینہ کروا رہا ہے، پراسیس بھی جاری ہے۔اس سے قبل شہباز حکومت 2002 سے لے کر 31 دسمبر 2024 تک توشہ خانہ ریکارڈ پبلک کرچکی ہے، توشہ خانہ کا 1997 سے لے کر 2001 کا ریکارڈ بھی جاری کیا جاچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…