میرے پاس موجود سائفر کی کاپی معلوم نہیں کہاں غائب ہو گئی ہے،عمران خان

  اتوار‬‮ 2 اکتوبر‬‮ 2022  |  0:24

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا کی طرف سے پاکستان کو لکھے گئے سائفر کی جو کاپی میرے پاس تھی معلوم نہیں وہ کہاں غائب ہوگئی ہے،جب آخری بار مجھے اپنی گرفتاری کا علم ہوا تو میں نے اپنا بیگ بنا کر تیاری کرلی تھی،

گرفتاری کے لیے میں ہر وقت تیار رہتا ہوں۔نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب آخری بار مجھے اپنی گرفتاری کا علم ہوا تو میں نے اپنا بیگ بنا کر تیاری کرلی تھی، گرفتاری کے لیے میں ہر وقت تیار رہتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ شریفوں اور زرداری کی سیاست مافیاز کی طرز پر ہے، یہ لوگوں کو خرید لیتے ہیں یا ڈرا دھمکا کر قتل بھی کروا دیتے ہیں، مجھے گرفتار کرنے اور جیل میں ڈالنے کی کوشش کرنی ہے، جس کے لیے میں تیار ہوں۔پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ مجھے پتہ تھا یہ مجھے نا اہل کروانے کی کوشش کریں گے، یہ اس وقت الیکشن کروانا چاہتے ہیں جب مجھے نا اہل کروا دیں، میں ذہنی طور پر ہر چیز کے لیے تیار ہوں مگر ڈٹ کر مقابلہ کروں گا اور اپنی قوم کو حقیقی آزادی دلواں گا۔انہوںنے کہاکہ مریم اور بلاول ہر بار کوئی ایسی بات کر دیتے ہیں جس سے ہمارا فائدہ ہو جاتا ہے، مجھے نہیں انہیں کوچ کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آڈیو لیک بہت بڑی سیکورٹی بریچ ہے، اعظم خان والی آڈیو لیک شاید اس کے فون کی ریکارڈنگ ہے، جو بھی باتیں آڈیو لیک میں سائفر کے حوالے سے کیں وہ سب تو میں جلسوں میں کر چکا ہوں،سائفر کی ایک کاپی میرے پاس تھی، پتا نہیں وہ کہاں غائب ہو گئی ہے، اسد مجید کے سائفر کے آخر میں لکھا تھا کہ ہمیں اسے ڈیمارچ کرنا چاہیے، عام لوگ سائفر کو نہیں سمجھتے، انکی زبان میں انہیں سمجھانے کے لیے لیٹر کا لفظ استعمال کیا۔ایوان صدر میں ہونے والی بڑی ملاقات کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جھوٹ میں بولنا نہیں چاہتا، سچ میں بول نہیں سکتا۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎