سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان نے حساب برابر کر دیا

  اتوار‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2022  |  23:05

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلی جانے والی 7 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے چوتھے میچ کا ٹاس انگلینڈ نے جیتا اور پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، پاکستان کی جانب سے بابر اعظم اور محمد رضوان بیٹنگ کے لئے آئے، بابراعظم نے 36 رنز بنائے اور ڈاسن کی گیند پر ڈکٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

دونوں اوپنرز کے درمیان 97 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی۔پاکستان کے دوسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی شان مسعود تھے انہوں نے 21 رنز بنائے، خوشدل شاہ صرف 2 رنز بناسکے، محمد رضوان نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا انہوں نے 67 گیندوں پر 88 رنز بنائے وہ کیچ آؤٹ ہوئے، آخری اوور میں آصف علی کے 2 شاندار چھکوں کی وجہ سے پاکستانی ٹیم مقررہ بیس اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 166 رنز بنا سکی، آصف علی نے تیرہ رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے، اس طرح پاکستان نے انگلینڈ کو جیتنے کے لئے 167 رنز کا ٹارگٹ دیا، انگلینڈ کی جانب سے ٹوپلی نے 2 کھلاڑیوں جبکہ ڈاؤسن اور ولی نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ انگلینڈ کی جانب سے ہدف کے تعاقب میں فل سالٹ اور الیکس ہیلز آئے، فل سالٹ نے آٹھ رنز بنائے اور وہ محمد نواز کی گیند پر محمد وسیم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے، الیکس نے 5 رنز بنائے اور وہ محمد حسنین کی گیند پر عثمان قادر نے ان کا کیچ پکڑا۔ وِل جیکس کوئی رنز نہ بنا سکے وہ محمد حسنین کا شکار بنے۔ بین ڈکٹ نے 33 رنز بنائے اور انہیں محمد نواز نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔ ہیری بروک نے 34 رنز بنائے انہیں محمد وسیم کی گیند پر محمد حسنین نے کیچ آؤٹ کیا، معین علی نے 29 رنز بنائے اور وہ محمد نواز کا شکار بنے۔ ڈیوڈ ویلی نے 11 رنز بنائے انہیں حارث رؤف نے بولڈ کیا۔ لیام ڈاسن نے اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا

انہوں نے 17 گیندوں پر 34 رنز بنائے اور حارث رؤف کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ انگلینڈ کی پوری ٹیم 19.2 اوورز میں 163 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ پاکستان کی جانب سے محمد نواز اور حارث رؤف نے تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، محمد حسنین نے دو اور محمد وسیم نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

عاشق مست جلالی

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎

میری اظہار الحق صاحب سے پہلی ملاقات 1994ء میں ہوئی‘ یہ ملٹری اکائونٹس میں اعلیٰ پوزیشن پر تعینات تھے اور میں ڈیلی پاکستان میں میگزین ایڈیٹر تھا‘ میں نے اس زمانے میں مختلف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں لکھنا شروع کیا تھا‘ اظہار صاحب نے تازہ تازہ کالم نگاری شروع کی تھی‘ان کی تحریر میں روانی‘ ادبی چاشنی اور ....مزید پڑھئے‎