جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

سیلاب متاثرین کے لیے امریکی امداد میں کمی امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل آگیا

datetime 25  ستمبر‬‮  2022 |

واشنگٹن (آئی این پی ) امریکی محکمہ خارجہ کے قونصلر ڈیرک شولیٹ نے کہا ہے کہ 2010 کے سیلاب کے مقابلے میں حالیہ سیلاب کے دوران امریکی امداد میں کمی کی وجہ وسائل کا فقدان ہے،پاکستان امریکہ تعلقات نہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ڈیرک شولیٹ کا کہنا تھا کہ سنہ 2010 میں صورتحال یکسر مختلف تھی۔امریکی کانگریس نے اس وقت پاکستان میں عوام کی

فلاح کے لیے اربوں ڈالر مختص کر رکھے تھے جو افغان جنگ میں کی گئی کوششوں کے اعتراف میں دیے گئے تھے لیکن اس وقت ہمارے پاس وہ وسائل نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ امداد میں واضح کمی کی وجہ تعلقات میں سرد مہری ہرگز نہیں بلکہ عالمی معاشی بحران اور یوکرین جنگ بھی اس کی وجوہات میں سے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں تقریبا ہر جگہ ہی معاشی مشکلات گھمبیر ہو رہی ہیں اور یورپ اس وقت یوکرین جنگ کے باعث اپنے سب سے بڑے انسانی المیے سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہاہے کہ یورپی یونین نے اس سال کے اپنے زیادہ تر وسائل پہلے ہی خرچ کر دیے ہیں لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی میں اگلے کئی ماہ لگ سکتے ہیں اس لیے ہمیں امداد کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ورلڈ بینک پاکستان میں سیلاب کے حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کرے گا جس سے یہ معلوم ہو گا کہ پاکستان میں کن چیزوں کی خصوصا ضرورت ہے اور جب ہمارے پاس یہ معلومات ہوں گی، تو ہمیں واضح انداز میں حکمتِ عملی بنانے کا موقع ملے گا۔

ڈیرک شولیٹ نے رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے سیلاب سے ہونے والی تباہی کے حوالے سے پانچ کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد دینے کی یقین دہانی کروائی تھی۔اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2010 کے سیلاب کے دوران امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے 90 کروڑ ڈالر کی امداد کا اہتمام کیا گیا تھا اور آئی ایم ایف سے بجٹ خسارے کے اہداف میں نرمی کی منظوری بھی دلوائی گئی تھی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…