سارہ انعام کے سر پر ڈمبل مارا ، خون دیکھ کر گھبرا گیا تھا اسے پانی کے ڈب میں ڈال دیا اور پانی کھول دیا تاکہ ۔۔۔ ملزم شاہنواز کے ہوشربا انکشافات

  ہفتہ‬‮ 24 ستمبر‬‮ 2022  |  11:18

اسلام آباد (این این آئی)سینئر صحافی ایاز امیر کے صاحبزادے شاہنواز نے اپنی بیوی سارہ انعام کے قتل کے حوالے سے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے لگتا تھا سارہ کسی ملک کی ایجنٹ ہے اور مجھے قتل کرنا چاہتی ہے۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو ملزم شاہنواز نے 3 ماہ کی دلہن سارہ انعام کو بیڈروم میں لوہے کی چیز سر پر مار کر قتل کردیا۔

ملزم شاہنواز نے اپنی بیوی کی لاش باتھ ٹب میں ڈال کر نل کھول دیا تھا، اس نے پولیس کو ابتدائی بیان میں بتایا کہ سارہ سے سوشل میڈیا پر دوستی اور 3ماہ پہلے شادی ہوئی۔ملزم نے بتایا کہ سارہ گزشتہ روز ہی دبئی سے اسلام آباد آئی تھی، مجھے شک تھا کہ سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے، اہلیہ نے مجھے اس حوالے سے مطمئن کردیا۔ملزم شاہنواز نے کہا کہ مجھے لگتا تھا سارہ کسی ملک کی ایجنٹ ہے اور مجھے قتل کرنا چاہتی ہے، گزشتہ رات اس نے میرا گلا پکڑا تھا اور جمعہ کی صبح بھی قریب آکر میری گردن پکڑلی تھی۔ملزم نے کہا کہ جب گردن پکڑی تو مجھے لگا جیسے میری گردن ٹوٹ جائیگی اور میں مرجائوں گا، جس پر میں نے سارہ کو دھکا دیا، وہ نیچے گری اور پھر اٹھ کر مجھ پر حملہ کردیا۔شاہنواز نے کہا کہ قریب ورزش والا ڈم بل پڑا تھا جو اس کے سر پر دے مارا، جس سے اس کے سر سے خون نکلا اور میں گھبرا گیا، خون صاف کرنے کیلئے سارہ کو باتھ ٹب میں ڈال دیا۔ملزم نے بتایا کہ باتھ ٹب میں ڈالنے کے بعد میں نے پانی کھول دیا تاکہ خون بہہ جائے۔ذرائع کے مطابق ایاز امیر نے اسلام آباد پولیس کے سینئر افسران کو فون پر واقعہ کی اطلاع دی۔



زیرو پوائنٹ

اہل لوگوں کی قدر کریں

میرے گھر سے50 میٹر کے فاصلے پر ایک واکنگ ٹریک ہے‘ میں وہاں روزانہ واک کرتا ہوں‘ میرے ساتھ سیکٹر کے بے شمار لوگ‘ جوان‘ خواتین اور بچے بھی واک کر رہے ہوتے ہیں‘ یہ جگہ دو سال پہلے تک اجاڑ بیابان ہوتی تھی‘ انسان تو کیا جانور تک یہاں نہیں آتے تھے لیکن پھر دو سال پہلے یہاں تبدیلی ....مزید پڑھئے‎

میرے گھر سے50 میٹر کے فاصلے پر ایک واکنگ ٹریک ہے‘ میں وہاں روزانہ واک کرتا ہوں‘ میرے ساتھ سیکٹر کے بے شمار لوگ‘ جوان‘ خواتین اور بچے بھی واک کر رہے ہوتے ہیں‘ یہ جگہ دو سال پہلے تک اجاڑ بیابان ہوتی تھی‘ انسان تو کیا جانور تک یہاں نہیں آتے تھے لیکن پھر دو سال پہلے یہاں تبدیلی ....مزید پڑھئے‎