پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کامن ویلتھ گیمز سے سری لنکن دستے کے 10 ارکان لاپتا

datetime 7  اگست‬‮  2022 |

برمنگھم (این این آئی)معاشی بحران کے شکار سری لنکا کے کامن ویلتھ گیمز کے دستے کے 10 ارکان برطانیہ میں قیام کی مبینہ کوشش میں برمنگھم سے لاپتا ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سری لنکا کے شعبہ کھیل کے اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی

شرط پر بتایا کہ کھیل کی سرگرمیاں مکمل کرنے کے بعد سری لنکا کے 9 ایتھلیٹس اور ایک منیجر غائب ہوگئے ہیں۔ان میں سے تین ایتھلیٹس جوڈوکا چمیلا دلانی، ان کے منیجر اسیلا ڈی سلوا اور پہلوان شانتھ چتھورنگا گزشتہ ہفتے لاپتا ہوگئے تھے، جس پر سری لنکن حکام نے پولیس کو شکایت کردی تھی تاہم اس کے بعد مزید 7 کھلاڑی لاپتا ہوگئے ہیں جن کی اعلیٰ افسر نے شناخت نہیں بتائی۔افسر نے کہا کہ ہمیں شک ہے کہ ممکنہ طور پر ملازمت کے حصول کے لیے کھلاڑی برطانیہ میں قیام کرنا چاہتے ہیں۔160 ارکان پر مشتمل سری لنکا کے دستے کی انتظامیہ کے پاس تمام اراکین کے پاسپورٹ موجود ہیں تاکہ ان کی وطن واپسی کو یقینی بنایا جاسکے، لیکن یہ عمل بھی کچھ ارکان کو روکنے میں ناکام رہا۔سری لنکا کے عہدیدار نے بتایا کہ برطانوی پولیس نے لاپتا ہونے والے پہلے تینوں ارکان کو ڈھونڈ نکالا تھا مگر چونکہ انہوں نے مقامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی اور ان کے پاس چھ ماہ کا ویزا ہے اس لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حقیقت میں پولیس نے ہمیں وہ پاسپورٹ واپس کرنے پر مجبور کیا جو ہم نے انحراف کے خلاف رکاوٹ کے طور پر اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ہمیں ان کے ٹھکانوں کے بارے میں اطلاع نہیں دی۔

ماضی میں بھی سری لنکا کے کھلاڑی بین الاقوامی کھیلوں سے لاپتا ہوچکے ہیں۔گزشتہ سال اکتوبر میں سری لنکا کے ریسلنگ منیجر اوسلو میں ورلڈ چیمپئن شپ ٹورنامنٹ کے دوران اپنی ٹیم کو چھوڑ کر لاپتا ہوگئے تھے۔جنوبی کوریا میں 2014 کے ایشین گیمز کے دوران سری لنکا کے دو ایتھلیٹس وہاں سے لاپتا ہوئے اور پھر واپس نہیں گئے۔2004 میں جب سری لنکا کے پاس قومی ہینڈ بال ٹیم بھی نہیں تھی تو ایک 23 رکنی گروہ نے ملک کی نمائندگی کا بہانہ بنا کر جرمنی میں ہونے والے ایک ٹورنامنٹ میں شرکت کی اور پھر وہاں سے لاپتا ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…