جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

زیات آپریشن میں مارے جانیوالے لاپتہ ظہیر احمد منظر عام پر آگئے،میڈیا کے سامنے آ کر ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا

datetime 29  جولائی  2022 |

کوئٹہ (این این آئی)مردہ تصور کر کے لاپتا افراد کی فہرست میں شامل بلوچ نوجوان نے میڈیا کے سامنے آ کر ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا۔قبائلی رہنما سردار نور احمد بنگلزئی کا بلوچ نوجوان ظہیر احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ زیارت آپریشن سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی حمایت کرتا ہوں، جوڈیشل کمیشن بنانا ہے تو زیارت کے پورے واقعے پر بنایا جائے،

جوڈیشل کمیشن بنانا ہے تو ان افراد پر بھی بنایا جائے کہ جنہیں اغوا کیا گیا اور مارا گیا، جوڈیشل کمیشن بنانا ہے تو اس پر بنایا جائے جو دہشتگرد کوئلے کی کان کے مالکان سے بھتہ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ریاست کے ہوتے ہوئے دوسری ریاست کیسے بنائی جا سکتی ہے، جوڈیشل کمیشن بنایا جائے کہ جو لاپتا ہیں کیا وہ واقعی لاپتا ہیں، ایک بندے کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ لاپتا تھا، وہ آج آپ کے سامنے موجود ہے۔سردار نور احمد بنگلزئی نے کہا کہ ہماری بیٹیوں اور ماؤں بہنوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ہمارے معصوم لوگوں اور نوحوانوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ زیارت میں ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک فوجی افسر اغوا ہوا تھا، زیارت واقعے کے بعد کچھ لوگ مارے گئے، بتایا گیا ظہیر بلوچ نام کا شخص بھی شامل تھا، اس واقعہ کو لیکر کچھ لوگ کوئٹہ کے ریڈ زون پر احتجاج کر رہے ہیں، لاپتا افراد کے اہلخانہ ظہیر کی تصویر لیے احتجاج کر رہے ہیں اور وہ زندہ میرے ساتھ بیٹھا ہے۔ظہیر بلوچ نے بتایا کہ مجھے یورپ جانے کا ایک موقع ملا تھا، میں وہاں جانا چاہتا تھا، ایجنٹ کے ذریعے نوشکی اور تفتان کے راستے ایران گیا جہاں فورسز نے گرفتار کر لیا، 10 ماہ ایران میں زیر حراست رہا، اس کے بعد پاک ایران سرحد پر رہا کیا گیا۔لاپتا افراد میں شامل نوجوان نے بتایا کہ نوشکی واپس پہنچا تو کزن نے بتایا کہ آپ کو تو مرا ہوا تصور کر لیا گیا ہے اور فاتحہ خوانی بھی ہو چکی ہے، میرا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، میں کسی ادارے کے خلاف بھی نہیں ہوں۔ظہیر بلوچ کے بھائی خورشید نے بتایا کہ ظہیر بلوچ کی گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، پریشان تھے، 18 تاریخ کو زیارت واقعہ کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ ان کی باڈی اسپتال سے لے لیں، ہمیں خوشی ہے کہ ہمارا بھائی زندہ سلامت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…