لندن (این این آئی)برطانوی ریگولیٹری کمپنی آف کوم کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ 2020 میں نوجوانوں کی ایک فیصد تعداد خبروں کے لیے ٹک ٹاک کا رخ کرتی تھی اب یہ تعداد تیزی سے بڑھتی ہوئی 7 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق 16 سے 24 سال کی عمر کے افراد ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ خبریں چیک کرتے ہیں۔دوسری جانب معمر افراد سوشل فیڈ پر خبریں چیک کرنے کے برعکس نیوز پیپر اور ٹی وی کا انتخاب کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق چند میڈیا ادارے ٹک ٹاک پر نوجوانوں کو خبریں فراہم کرنے میں تیزی سے کامیاب رہے ہیں جن میں اسکائی نیوز، بی بی سی نیوز، آئی ٹی نیوز جیسے ادارے شامل ہیں۔
برطانیہ میں ٹک ٹاک اخبار اور ٹی وی کی جگہ لینے لگا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
تنخواہوں میں اضافے کی تیاری، 120 فیصد تک الاؤنس کی تجویز
-
دنیا بھر میں وقت کے نظام میں تبدیلی کا فیصلہ
-
عمران خان بھٹو(آخری حصہ)
-
بابراعظم نے ون ڈے میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
ون ڈے کرکٹ میں ریورس سوئنگ کی واپسی، بیٹرز کیلیے مشکلات بڑھ گئیں
-
لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی ٹیم میں شامل؟ کرکٹ کا نیا ’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘ فارمیٹ متعارف
-
رکشے میں بیٹھی دو بہنوں کا قتل، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
-
عامر لیاقت نازیبا ویڈیو کیس، دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
-
رجب بٹ کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج
-
کراچی ایئر پورٹ،ہم جنس پرست شادی کیلئے تھائی لینڈ جانے والے 2 پاکستانی آف لوڈ
-
پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹس کیلئے نیا بائیومیٹرک نظام نافذ کرنے کا فیصلہ
-
پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی میں داخلوں کا نیا ریکارڈ قائم
-
اسرائیل; عرب دنیا کے صحافیوں کی جاسوسی کا سب سے خطرناک اسکینڈل سامنے آ گیا
-
طب کی تاریخ کا انوکھا واقعہ،آنکھ کے اوپر دانت نکل آئے



















































