بیجنگ ( آن لائن) پاکستان ہر سال تقریباً 1,500 ٹن زیتون کا تیل اور 830 ٹن ٹیبل زیتون پیدا کر سکتا ہے،پاکستان کے پاس زیتون کی کاشت کے لیے موزوں رقبہ اسپین سے تقریباً دوگنا ہے، پاکستان میں خوردنی زیتون کی کاشت اور پروسیسنگ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے،
اس شعبے میں چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کے مواقع موجود ہیں، دونوں ممالک کو سی پیک کے تحت زرعی شعبے میں تعاون کو مزید گہرا اور وسعت دینا چاہیے۔ پاکستان زیتون کی کاشت کے لیے جدید ترین چینی ٹیکنالوجی کو اپنا سکتا ہے۔فیوجیان بے جیانگ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ لمیٹیڈ کے جنرل منیجرچھن روئی نے چائنہ اکنامک نیٹ کو انٹرویو میں بتایا کہ چین کا صوبہ فوجیان زیتون کی اہم پیداواری علاقوں میں سے ایک ہے جہاں تیاری سے متعلق صنعت ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کرسکی ہے۔اگرچہ ذیلی مصنوعات کی منڈی لامحدود ہے تاہم اعلی معیار کے زیتون کی فراہمی نہایت کم ہے۔ مستقبل میں اگر ہم پاکستان سمیت بیلٹ اینڈ روڈ سے منسلک ممالک سے زیتون کی بہترین اقسام متعارف کرائیں ، اور ان کے ساتھ کاشت اور پروسیسنگ ٹیکنالوجی کا تبادلہ کریں تو یہ ایک اچھی صورتحال ہوگی۔ چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق کھانے والا زیتون غذائیت سے بھرپور ہو تا ہے جو پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، چکنائی، وٹامن سی، کیلشیم، فاسفورس، آئرن اور دیگر معدنیات فراہم کر تا ہیں۔ اس میں وٹامن سی کی مقدار سیب سے 10 گنا اور ناشپاتی اور آڑو سے 5 گنا زیادہ ہے۔ پاکستان کے پاس زیتون کی کاشت کے لیے موزوں زمین کا ایک بڑا رقبہ ہے، ہر سال تقریباً 1,500 ٹن زیتون کا تیل اور 830 ٹن ٹیبل زیتون پیدا کر سکتا ہے، یہ تمام چیزیں مقامی طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ اب پاکستان واحد جنوبی ایشیائی ملک ہے جسے انٹرنیشنل اولیو کونسل میں شامل کیا گیا ہے۔
بارانی ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں زیتون پروگرام کے انچارج سائنس آفیسر فرحان پاشا نے سی ای این کو بتایا کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت کے لیے موزوں ترین علاقے بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب وغیرہ ہیں۔ پاکستان میں زیتون کی کاشت کے لیے 10 ملین ایکڑ رقبہ موزوں ہے جو دنیا کے سب سے بڑے زیتون کا تیل پیدا کرنے والے اسپین سے تقریباً دوگنا ہے۔
اس کے باوجود پاکستان میں خوردنی زیتون کی کاشت اور پروسیسنگ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جس سے اس شعبے میں چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کے مواقع بھی موجود ہیں۔ چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق فرحان پاشا نے کہا پاکستانی زیتون کے کاشتکاروں کو کیڑوں اور بیماریوں کا سامنا کرنے پر
اکثر مہنگی درآمدی کھاد یا کیڑے مار دوا استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یہ زیادہ تر عام کسانوں کی قوت خرید سے باہر ہے۔ اس لیے اگر چین پیداوار بڑھانے یا کیڑوں اور بیماریوں پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات فراہم کرتا ہے تو یہ سب سے مثالی نتیجہ ہوگا۔
چن نے اس کے لیے ایک مخصوص منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا ، ”بایو پیسٹیسائڈز ہمارا بہترین انتخاب ہیں کیونکہ عام کیڑے مار ادویات مٹی کو سخت کرنے یا کیڑے مار ادویات کی باقیات کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ سب سے عام حیاتیاتی مواد جیسے کہ ادرک اور کالی مرچ کا مناسب تناسب والا سپرے بھی بہت اچھا جراثیم کش اور کیڑے مار اثر ڈال سکتا ہے۔
کیڑوں پر قابو پانے کے معاملے میں ہم کیڑوں کو مارنے کے لیے افزائش نسل کے فائدہ مند کیڑوں، جیسے لیڈی بگس کا استعمال کرتے ہیں۔ جہاں تک کھاد کا تعلق ہے چھن نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ تر معاملات میں اس کا زیتون کا باغ نامیاتی حیاتیاتی کھادوں کا انتخاب کرتا ہے جیسے کہ چکن اور بھیڑ کے گوبر کی کھاد
، جو پیداوار بڑھانے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اس وقت اس کے باغ میں کھانے کے زیتون کی دو اہم اقسام ہیں، جن کا کل پودے لگانے کا رقبہ تقریباً 2,500 ایم یو (تقریباً 166.67 ہیکٹر) ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں سالانہ پیداوار تقریباً 500,000 کلوگرام رہی ہے، اور سالانہ پیداوار کی قیمت 50 ملین یوآن تک پہنچ سکتی ہے۔



















































