کراچی (آن لائن)سابق وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین اور پی ٹی آئی کے معاون ترجمان مزمل اسلم نے کہا ہے کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے ،آئی ایم ایف کی ایماء پر منی بجٹ اور خانہ پوری بجٹ کے باوجود پیکیج نہیںمل رہا،دوست ممالک نے بھی پیسے دینے سے انکار
کردیا ہے،موجودہ حکومت کے محض تین ماہ میںہی بدترین مہنگائی کردی ہے،گزشتہ روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شوکت ترین اور مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ موڈیز نے پاکستا ن کی ریٹنگ منفی کردی ہے اور پاکستان کو نہ تو آئی ایم ایف سے ریلیف پیکیج مل رہا ہے اور نہ ہی دوست ممالک سے پیسے مل رہے ہیں،موجودہ حکومت پاکستان کو دیوالیہ پن کی جانب لے جارہی ہے ،وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے معاملات نہیں سنبھل رہے،پی ڈی ایم کی 90روز کی کارکردگی انتہائی بدترین ہے،مجض تین ماہ میںہی مہنگائی کا14 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،ڈالر کی قدر نیچے آنے کا نام نہیںلے رہی،زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل گررہے ہیںجبکہ بر آمدات میں بھی کمی ہوئی ہے،بجلی،گیس اور پٹرولیم مصوعات مہنگی ہونے سے مہنگائی کی شرح 21فیصد سے زائد ہوگئی ہے جو کہ ہم12 فیصد کی شرح پر چھوڑ کر گئے تھے،انہوںنے چار کروڑ سے زائد ٹیکس دینے والوں کا ریکارڈ غائب کردیا ہے،اس وقت ملک میں بجلی اور گیس کا بدترین بحران ہے اور حکومت کے پاس کوئی پلان نہیںہے،وزیر خزانہ مہنگائی کرنے کے باوجود آئی ایم ایف سے مذاکرات میںناکام ہیں،حکومت رواں مالی سال28ارب ڈالر کا قرضہ لینے جارہی ہے ،جس کا بوجھ عوام برداشت کرینگے،ابھی مزیدمنی بجٹ آئینگے،موجودہ حکومت اپنی وقعت کوھ بیٹھی ہے،چیناور دوسرے ممالک نے پاکستان سے نظریں پھیر لی ہیںاور پاکستان اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے،ان سے ڈالر کی قدر کی قابو نہیںہورہی ہے ،موجودہ حکومت معاشی میدان میںسراسر ناکام ہوچکی ہے اور ہماری حکومت میںہونے والی معاشی ترقی کو انہوںنے روک دیا ہے۔



















































