اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

حکومت کا گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کا فیصلہ

datetime 14  مئی‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)وفاقی حکومت نے ملک میں گاڑیوں کی خریداری کو عام آدمی کی دسترس میں لانے اور مشکلات کا شکار آٹو صنعت کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے نئی آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2026-31 کے تحت متعدد انقلابی تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور آٹو انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ زیرِ بحث اس پالیسی کے مطابق، گاڑیوں کی فنانسنگ کی مدت کو بڑھا کر 7 سال کرنے، ڈائون پیمنٹ کو کم کر کے 15 فیصد تک لانے اور مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کے لیے کار فنانسنگ کی حد ایک کروڑ روپے تک مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔یہ اقدامات بلند شرح سود اور گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث متاثر ہونے والی صارفین کی قوتِ خرید کو بحال کرنے کے لیے تجویز کیے گئے ہیں تاکہ مارکیٹ میں گاڑیوں کی فروخت میں ایک بار پھر اضافہ کیا جا سکے۔مجوزہ پالیسی میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی سخت شرائط شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت گاڑیوں کی بکنگ پر قیمت کو فکس کر دیا جائے گا اور بکنگ کی رقم کو کل قیمت کے 20 فیصد تک محدود رکھا جائے گا۔اگر مینوفیکچرر گاڑی کی ڈیلیوری میں 30 دن سے زائد تاخیر کرے گا تو اسے کائیبور پلس 3 فیصد جرمانہ ادا کرنا ہوگا، جبکہ وارنٹی کی تمام تر ذمہ داری بھی مقامی مینوفیکچررز پر ڈالی جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کو مرحلہ وار ریگولیٹ کرنے اور مالی سال 2030 تک درآمدی ٹیرف پریمیم کو بتدریج ختم کر کے صفر کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے تاکہ مارکیٹ میں صحت مند مقابلہ پیدا ہو اور صارفین کو سستی گاڑیاں دستیاب ہوں۔

حکومت نے اس پالیسی میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز (NEVs) کے فروغ کو بھی خصوصی اہمیت دی ہے، جس کے تحت 2030 تک ملک بھر میں 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔پالیسی کے مطابق اسلام آباد میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس میں مکمل استثنا دیا جائے گا، جبکہ دسمبر 2027 سے سرکاری سطح پر روایتی ایندھن والی گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں سے تبدیل کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔اس پانچ سالہ منصوبے کا حتمی مقصد سالانہ 5 لاکھ گاڑیوں کی پیداوار، ایک ارب ڈالر کی آٹو ایکسپورٹس اور مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری(لوکلائزیشن)میں نمایاں اضافہ کرنا ہے تاکہ ملکی معیشت میں آٹو سیکٹر کا حصہ مزید مستحکم ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…