لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن نے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔برطانیہ میں سیاسی بحران وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدید ہوتا جارہا ہے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی کابینہ کے 50 ارکان نے استعفے دے دیے ہیں۔برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ
آئندہ کچھ گھنٹوں میں وزیراعظم بورس جانسن بیان جاری کریں گے۔برطانیہ میں 90 برس میں پہلی بار کابینہ نے اتنی بڑی تعداد میں اپنے ہی وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب برطانیہ کے اپوزیشن لیڈر سرکیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ بورس جانسن کا استعفیٰ قوم کے لیے خوشخبری ہے۔سرکیئر اسٹارمر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس منصب کے لیے وہ کبھی بھی موزوں نہ تھے۔لیبر لیڈر نے کہا کہ بورس جانسن جھوٹ، فریب اور اسکینڈلز کے ذمہ دار ہیں، وہ تمام افراد جنہوں نے بورس جانسن کا ساتھ دیا ان کے لیے شرمندگی کا مقام ہے۔یاد رہے مستعفی ہونے والوں میں 3 کابینہ کے ارکان اور 16 وزرا شامل ہیں، جب کہ 20 پارلیمانی سیکریٹری، 4 ٹریڈ انوائے اور پارٹی کا یوتھ وائس چیئرمین شامل ہے، ایک سیکریٹری مائیکل گوو کو بر طرف کیا گیا۔ برطانیہ کی ہوم سکریٹری پریتی پٹیل بدھ کے روز کابینہ کی تازہ ترین وزیر بن گئیں جنھوں نے کنزرویٹو پارٹی کے رہنما کے طور پر بورس جانسن کی حمایت واپس لے لی۔



















































