نئی دہلی(این این آئی) توہین رسالت کی مرتکب بی جے پی کی رہنما نوپر شرما کے خلاف بیان دینے والے درگاہ کے خادم کو گرفتار کر لیا گیا ۔ سلمان چشتی کی ایک مبینہ ویڈیو کلپ کے خلاف شکایت درج کی گئی تھی اور پولیس ان کی تلاش میں تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارتی
ریاست راجستھان کے شہر اجمیر میں واقع حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے ایک خادم سلمان چشتی کو چھ جولائی بدھ کے روز گرفتار کر لیا گیا ۔ ان کے خلاف گزشتہ پیر کو یہ شکایت درج کی گئی تھی کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کی توہین کرنے والی ہندو قوم پرست جماعت بی جی کی رہنما نوپر شرما کے خلاف اشتعال انگیز بیان دیا تھا۔پولیس کے مطابق سلمان چشتی نے نشے کی حالت میں اپنی وہ مبینہ ویڈیو بنوائی تھی جس میں انہوں نے نوپر شرما کے خلاف بیان دیا۔ اجمیر کے اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ آف پولیس وکاس سنگوان کا کہنا تھا کہ انہیں خادم محلے میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔انہوں نے مزید کہاکہ انہیں اشتعال انگیز بیان دینے کے لیے گرفتار کیا گیا ہے اور پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے نشے کی حالت میں وہ ویڈیو بنائی تھی۔ ان سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ چند روز قبل ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو ئی تھی، جس میں سلمان چشتی کو مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نوپر شرما کا سر قلم کر دے، تو وہ اسے تحفے میں اپنا گھر پیش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام کی توہین کرنے کے لیے وہ نوپور شرما کو گولی مار دیتے۔



















































