ہفتہ‬‮ ، 16 مئی‬‮‬‮ 2026 

 وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا ٹی وی پر آنا ایسے ہے جیسے کسی ڈاکو کا خو ف دلا کر بچوں کو سلایا جاتا تھا “ایاز صادق کا قومی اسمبلی میں مضحکہ خیز بیان 

datetime 24  جون‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ بجٹ زرعی شعبے کیلئے اچھا ہے ، زرعی شعبہ ہی ملک کو مسائل سے نکالے گا ،دس سال تک زرعی شعبے کو اس طرح کا پیکج دیا جائے تو پھر پاکستان کو کسی کے پاس قرض کے لئے نہیں جانا پڑیگا ،ہم سگریٹ پر کیوں ٹیکس زیادہ نہیں لگاتے؟،دل کے امراض ، جگر کے کینسر، کینسر جیسی بیماریاں سگریٹ نوشی کے باعث ہیں

،کم از کم 20 روپے ایک سگریٹ پیکٹ پر ٹیکس بڑھانا چاہیے ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ یہ بجٹ زرعی شعبے کیلئے اچھا بجٹ ہے، یہی شعبہ ملک کو مالی مسائل سے نکال لے گا ،دس سال تک زرعی شعبے کو اس طرح کا پیکج دیا جائے تو پھر پاکستان کو کسی کے پاس قرض کے لئے نہیں جانا پڑیگا ۔ انہوںنے کہاکہ ہم سگریٹ پر کیوں ٹیکس زیادہ نہیں لگاتے، اس سے ٹیکس کے ساتھ عوام کو بیماریوں سے بچانا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ دل کے امراض ، جگر کے کینسر، کینسر اور دیگر بیماریاں سگریٹ نوشی کے باعث ہیں ،کم از کم 20 روپے ایک سگریٹ پیکٹ پر ٹیکس بڑھانا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی بنائے اور جو ٹیکس نہیں دیتے یا دیتے ہیں اس کا جائزہ لے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی اس معاملے پر 200 فیصد متفق ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ سگریٹ پر کتنا ٹیکس لگایا گیا ہے ، وزارت خزانہ کو اس حوالے سے بتانا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہمیں اس معاملے کو اٹھائیں، کیا یہ اتنے بڑے مافیاز ہیں ؟ ،آج وزیراعظم میاں شہباز شریف کو اس ایوان میں ہونا چاہیے تھا ۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ سید خورشید شاہ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں، تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر صحت ہے ،اس پر ٹیکس لگایا جائے تاکہ عوام کو مختلف بیماریوں سے بچایا جائے،سگریٹ پر ٹیکس لگائیں قوم خوش ہوگی ۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ سید خورشید شاہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس معاملے کو اٹھایا

،مجھے وزیراعظم نے کہاہے کہ 70 ارب روپے تک ٹیکس سگریٹ پر لیا جائے ،میں سید خورشید شاہ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں 200 ارب روپے ٹیکس جمع کرینگے ۔ انہوںنے کہاکہ سگریٹ کی قیمت کتنی ہونی چاہیئے یہ مجھ پر چھوڑ دیں، میں ان سے پیسے لے کر دکھاؤں گا سر دار ایاز صادق نے کہاکہ 2019 میں آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوا جس سے ملک نے نقصان کا سامنا کیا

،نئی حکومت کیلئے پچھلی حکومت نے کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا،۔تمام جماعتوں نے پاکستان کے نقصان کو بچانے کیلئے اپنا سیاسی نقصان کیا،آئی ایم ایف سے جب بھی بات کی جاتی تو جواب ملتا کہ ہم اعتبار نہیں کرتے۔ انہوںنے کہاکہ جاتے جاتے عمران خان نے جو آئی ایم ایف سے کمٹمنٹ کی اس کے برعکس قیمتیں کم کیں،عمران خان نے اقتدار کی خاطر امریکہ اور یورپی یونین کو برا کہا۔

انہوںنے کہاکہ وزیر خزانہ جو بجٹ دیا وہ ان کا نہیں بلکہ تمام اتحادیوں کا ہے،تمام فیصلے مشاورت سے ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ ایسی بھی نوبت آئی کہ وزیر خزانہ کو باتوں کے ساتھ ہاتھوں سے سمجھانے کی کوشش کی۔ انہوںنے کہاکہ مفتاح صاحب جب ٹی وی پر آتے ہیں تو لوگ گھبرا جاتے ہیں،جیسے کسی ڈاکو کا خوف دلاکر بچوں کو سلایا جاتا تھا۔ انہوںنے کہاکہ کاروباری لوگوں کی ہمت افزائی کرنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…