جمعرات‬‮ ، 22 اکتوبر‬‮ 2026 

مریخی پتھر پر تحقیق نے سیاروں کی تشکیل پر سوالات اٹھا دئیے

datetime 20  جون‬‮  2022 |

نیویارک (این این آئی) زمین تک پہنچنے والے ایک مریخی پتھر پر تحقیق سے خود مریخ کی تشکیل، ارتقا اور دیگر پتھریلے سیاروں کے متعلق مفروضہ نظریات پر سوال اٹھے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہمارے نظامِ شمسی میں سورج کے قریب موجود سیارے مثلا عطارد،

زہرہ، زمین اور مریخ قدرے پتھریلے اور ٹھوس ہیں جبکہ اس کے پیچھے والے سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور ان دونوں کے ارتقا کے اپنے اپنے مروجہ نظریات ہیں۔1815 میں فرانس سے ملنے والے ایک مریخی پتھر شیسینی شہابئے پر ایک عرصے سے تحقیق جاری تھی تاہم اب نئی ٹیکنالوجی سے معلوم ہوا ہے کہ اگرچہ سیارہ مریخ 40 لاکھ سال میں تشکیل پا چکا تھا لیکن اس میں بعض گیسوں مثلا کرپٹون کی موجودگی ایک معمہ ہے۔دوسری جانب ہماری اپنی زمین پانچ سے دس کروڑ سال میں بنی تھی۔ ماہرین کے مطابق شیسینی پتھر ایک غیرمعمولی شہابیہ ہے۔ خیال ہے کہ مریخ سے ایک بڑی چٹان ٹکرائی تھی اور اس سے بہت گہرائی میں مریخی پتھر ٹوٹ کر زمین پر پہنچا تھا۔ اس سے قبل مریخ کے جتنے بھی شہابئے ہمیں ملے ہیں وہ اس کی اوپری سطح سے تعلق رکھتے تھے لیکن شیسنی قدرے گہرائی کا پتھر ہے کیونکہ اس کی کیمیائی ترکیب بہت مختلف ہے۔جامعہ کیلیفورنیا کے پروفیسر سیندرائن پائرن اور ان کے ساتھیوں نے کرپٹون 84 اور کرپٹون 86 کا باہم موازنہ کیا ہے۔ اس سے پتا چلا ہے کہ نظامِ شمسی کے اولین دور کے واقعات کو جس طرح مرحلہ وار بیان کیا جاتا ہے ان کا دورانیہ یا تو غلط ہے یا پھر کوئی خامی ہے۔ہمارے جوان سورج کے گرد گھومتے ہوئے گیسی نیبولہ کی طشتری سے ہی تمام سیارے تشکیل پائے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے آثار اب بھی پائے جاتے ہیں۔

لیکن تیزی سے اڑنے والی گیسوں کا معاملہ پیچیدہ ہوتا ہے جن میں آکسیجن، ہائیڈروجن اور دیگر نایاب گیسیں شامل ہیں، جو ابتدائی سیاروی تشکیل میں فرار ہوسکتی تھیں۔

اب اگر کسی سیارے کے پتھر سے نایاب گیس ملتی ہے تو دو باتیں ہوسکتی ہیں: یا تو گیس فرار ہونے سے بچ رہیں یا پھر وہاں دیگر شہابی پتھروں سے پہنچیں اور اب کس بات کو مانا جائے اور کسے رد کیا جائے؟

چونکہ مریخ صرف 40 لاکھ برس میں تشکیل پا گیا تھا اور وہاں کرپٹون گیسوں کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ مریخ نے نیبولہ مراحل کے دوران ہی اسے حاصل کیا تھا۔

اس سے خود مریخ کی تشکیل اور اس کے ادوار کی طوالت پر سوالات اٹھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔



کالم



بارہ منٹ کا کھیل


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…